وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان جمعرات کے روز وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر سے ملاقات کی اور وفاقی حکومت کے پبلک سیکٹر ڈیویلپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) کے تحت صوبے میں میگا ترقیاتی اسکیموں ، ضم شدہ اضلاع کے لئے ترقیاتی فنڈزکی فراہمی، پن بجلی کے خالص منافعوں کی مد میں صوبے کو بقایا جات کی ادائیگی اور دیگر مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا۔
اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے چشمہ رائٹ بینک لفٹ کینال کے مجوزہ منصوبے کو صوبے کی زرعی خود کفالت کے لئے ایک اہم منصوبہ قرار دیتے ہوئے زور دیا کہ اس منصوبے کو نئے مالی سال کے فیڈرل پی ایس ڈی پی کا حصہ بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ کورونا کی موجودہ صورتحال میں فوڈ سیکیورٹی وفاقی اور صوبائی دونوں حکومتوں کی ترجیحات میں شامل ہے اور مذکورہ منصوبے کی تکمیل سے نہ صرف خیبرپختونخوا بلکہ پنجاب بھی زرعی پیداوار میں خود کفیل ہو جائیگا۔ وفاقی وزیر نے یقین دلایا کہ اس منصوبے کی اہمیت کے پیش نظر اس کی فیزیبیلیٹی کواگلے سال کے پی ایس ڈی پی میں شامل کی جائیگی۔ صوبے کو پن بجلی کے خالص منافعوں کی مد میں بقایا جات کی ادائیگیوں پر گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ صوبے کو ان بقایاجات کی ادائیگی صوبائی حکومت اور واٹر ریسورس ڈویژن کے درمیان طے شدہ معاہدے کے عین مطابق ہونی چاہیئے۔
ضم شدہ اضلاع کی تیز رفتار ترقی کے لئے فنڈز کی فراہمی کے حوالے سے وزیراعلیٰ نے اس بات پر زور دیا کہ دیگر تمام صوبے اپنے کئے ہوئے وعدوں کے مطابق ضم شدہ اضلاع کے لئے این ایف سی میں سے اپنے اپنے حصے کے تین فیصد فنڈز کی بروقت فراہمی کو یقین بنائیں تاکہ ان اضلاع کی تیز رفتار ترقی کا عمل بغیر کسی تعطل کے جاری رہے۔ وزیراعلیٰ نے ضم شدہ اضلاع کو قومی دھارے میں شامل کرنے سے متعلق معاملات کو صرف خیبرپختونخوا کا نہیں بلکہ پورے ملک کا معاملہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت نے اس سلسلے میں اپنے حصے کی ذمہ داریاں بخوبی انجام دے رہی ہےں ۔ وفاق کے دوسرے اکائیوں کو بھی چاہئیے کہ وہ اس حوالے سے اپنی ذمہ داریا ں پوری کریں۔ وفاقی وزیر اسد عمر نے وزیراعلیٰ کو یقین دلایا کہ وفاقی حکومت ضم شدہ اضلاع سمیت پورے صوبے کی ترقی کے لئے صوبائی حکومت کو ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی۔