ضم شدہ اضلاع میں زیادہ سے زیادہ روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے سلسلے میں شروع کر دہ انصاف روزگار سکیم کے تحت آسان قرضے فراہم کرنے کیلئے مالی سال2019-20 کے دوران 1100 ملین رپے مختص ہیںاور اب تک نوے فیصد قرضے تقسیم کئے جا چکے ہیںجبکہ مالی سال کے آخر تک سو فیصد قرضے تقسیم کئے جائیں گے ۔ یہ بات وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان کی زیر صدارت محکمہ صنعت، تجارت اور فنی تعلیم کے تحت ضم شدہ اضلاع میں شروع کئے گئے تیز رفتار ترقیاتی منصوبوں پر پیشرفت کا جائزہ لینے کیلئے منعقدہ ایک اجلا س میں بتائی گئی ۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ انصاف روزگار سکیم کے تحت تمام قبائلی اضلاع اور ایف آر کے علاقوں میں مجموعی طور پر 3936 افراد کو قرضے فراہم کئے گئے ہیں۔ اسی طرح ضم شدہ اضلاع میں ذاتی کاروبار کے فروغ کیلئے بھی 1100 ملین روپے سے زائد کی رقم سے چھوٹے پیمانے پر بلاسود قرضوں کی فراہمی کیلئے ایک سکیم شروع کی گئی ہے۔ اس منصوبے پر عمل درآمدکے سلسلے میں پیشرفت مقررہ ٹائم لائنز کے مطابق ہے جبکہ یہ منصوبہ سال 2022 میں مکمل ہو گا۔ اجلا س کو بتایا گیا کہ ضم شدہ اضلاع کے نوجوانوں کو فنی تربیت حاصل کرنے کے سلسلے میں سکالرشپ دینے کیلئے بھی ایک سکیم منظوری کیلئے متعلقہ فورم کو پیش کیا گیا ہے ۔ تین سالہ اس منصوبے کے تحت قبائلی اضلاع کے پندرہ ہزار نوجوانوں کو سکالرشپ فراہم کئے جائیں گے ۔ اگلے مالی سال کے تیز رفتار ترقیاتی پروگرام کیلئے محکمہ صنعت کے تحت ضم شدہ اضلاع کے مجوزہ منصوبوں کے حوالے سے اجلاس کو بتایا گیا کہ خیبرپختونخوا ٹیکنکل ایجوکیشن اینڈ ووکیشنل ٹریننگ اتھارٹی کے تحت قبائلی اضلاع میں کل آٹھ منصوبے شروع کرنے کی تجویز ہے جن میں ضلع مہمند میں پولی ٹیکنک انسٹیٹوٹ کا قیام، شمالی وزیرستان میں پولی ٹیکنک انسٹیٹوٹ کا قیام ، ضم شدہ اضلاع کے دس فنی تربیتی اداروں کو ٹرانسپورٹ کی سہولت اور پینے کے صاف پانی کی فراہمی، موجودہ فنی تعلیمی اداروں میں مشینری ، اوزار اور دیگر ضروری آلات کی فراہمی، ضم شدہ اضلاع کے دس فنی تربیتی مراکز کیلئے عمارتوں کی تعمیر وغیرہ شامل ہیں جبکہ سمال انڈسٹریز بورڈ کے تحت درہ آدم خیل اور باجوڑ میں سمال انڈسٹریل اسٹیٹس کے قیام کے منصوبے اگلے مالی سال کے ترقیاتی پروگرام میں شامل کرنے کی تجویز ہے ۔