کورونا لیبارٹری کے قیام سے کورونا ٹسٹ کے رزلٹ اسی دن موصول ہوسکتے ہیں۔ جس سے عوام کے مشکلات میں کمی واقع ہوگی۔ یم ایم سی کے میڈیکل ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر مختیار علی، ڈائریکٹر ہسپتال ڈاکٹر طارق محمود، اے ڈی سی مشتاق حسین، پروفیسر ڈاکٹر امجد علی ایچ او ڈی میڈیسن، ڈاکٹر اصغر ڈی ایچ او، ڈاکٹر ذیشان اپریشنل منیجر اور دیگر حکام اس موقع پر موجود تھے۔ لیبارٹری کیلئے عملہ کو پہلے سے قومی ادارہ صحت میں تربیت دی گئی ہے۔ وزیر صحت نے ہدایت کی کہ لیبارٹری سے زیادہ سے زیادہ مستفید ہونے کیلئے بیک اپ سٹاپ کو بھی تیار رکھا جائے۔ لیبارٹری کو دن رات تین شفٹوں میں کام کرنے کا قابل بنایا جائے گا۔
اس موقع پر وزیر صحت اور سیکرٹر ی صحت کو مردان میڈیکل کمپلیکس کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ اس موقع پر وزیر صحت کو ہسپتال میں او پی ڈی کھولنے اور اس سلسلے میں کورونا کے مشکوک مریضوں اور دیگر مریضوں کو ایک دوسرے سے فاصلے پر رکھنے کے لئے کئے گئے احتیاطی اقدامات سے بھی آگاہ کیا گیا۔ متاثرہ مریض کے ساتھ رابطہ میں رہنے والوں کی ٹسٹنگ 20 سے 30 روابط تک بڑھایا جائے۔ اس وقت صوبہ میں متاثرہ مریض کے ساتھ رابطے میں رہنے والے پانچ یا چھ افراد کی ٹیسٹ کی جاتی ہے۔ آئسولیشن وارڈز اور آئی سی یو کی تعداد بڑھانے کی بھی ہدایت، آئسولیشن وارڈز میں آکسیجن فراہم کرنے کیلئے بھی بندوبست کیا جائے۔ وزیر صحت کی ہدایت، پشاور کے بڑے ہسپتالوں میں رش کی صورت میں مردان میڈیکل کمپلیکس میں مریضوں کو منتقل کیا جاسکتا ہے۔ وزیر صحت نے ہسپتال کی تمام ضروریات کو پورا کرنے کی یقین دہانی کرائی۔ ہسپتال کی جتنی بھی جائز ضروریات ہو اس کی تفصیلات جلد از جلد حکومت کو پیش کی جائے۔ تمام ایمر جنسی ضروریات کو موجودہ ہی بجٹ میں پورا کرنے کی یقین دہانی جبکہ طویل المیعاد ضروریا ت کو پورا کرنے کیلئے آئندہ بجٹ میں مخصوص رقم مختص کی جائے گی۔