خیبرپختونخوا کے وزیر زراعت و لائیوسٹاک اور ماہی پروری محب اللہ خان نے کہا ہے کہ وزیراعظم کے ہنگامی اصلاحاتی پروگرام کی بدولت صوبے میں بچھڑوں اور کٹے بچاو مہم کے تحت گوشت کی پیداوار میں خاطر خواہ اضافہ ہوگا اور اس منصوبے کے تحت مویشی پال زمینداروں کو چار ہزار روپے فی جانور کے حساب سے فراہم کیے جائیں گے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے پشاور میں جانوروں کو فربہ کرنے کٹوں اور بچھڑوں کو کم عمری میں ذبح ہونے سے بچانے کے پروگرام کے تحت 100 زمینداروں میں چیک تقسیم کرنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر سیکرٹری زراعت و لائیو سٹاک محمد اسرار خان،ڈی جی لائیو سٹاک توسیع ڈاکٹر عالم زیب، پروجیکٹ ڈائریکٹر ڈاکٹر ضیاء الرحمن،زمینداروں اور متعلقہ افسران نے شرکت کی۔زمینداروں سے بات چیت کرتے ہوئے محب اللہ خان نے کہا کہ کٹوں اور بچھڑوں کو فربہ کرنے کے پروجیکٹ کے تحت زمینداروں کو 826 ملین روپے فراہم کئے جائیں گے۔ اس منصوبے سے صوبے کے16 اضلاع کے مویشی پال لوگ مستفید ہونگے اور یہ پروگرام چار سال تک جاری رہے گا۔انہوں نے کہا کہ زمینداروں کو چار ہزار روپے فی جانور کے حساب سے فراہم کی جائیگی تاکہ وہ گوشت کی پیداوار میں اضافہ کرنے کے ساتھ اپنی زندگی میں بہتری لانے کے قابل ہوں اور گوشت کی بین الاقوامی حلال منڈی تک رسائی حاصل کی جاسکے۔انہوں نے کہا کہ کم عمری میں کٹوں کو ذبح کرنا نقصاندے امر ہے اور ان کو بچانے بڑا کرنے اور فربا کرنے سے خوراک کی ضروریات پوری ہوں گی جس کے لیے آئندہ چار سالوں میں ایک لاکھ بیس ہزار (120000)کٹو ںاور بچھڑوں کو ذبح ہونے سے بچایا جائے گا جبکہ رواں سال یہ 30 ہزار مویشیوں کو بچانے کا ہدف مقرر ہے جس سے عوام کو صحت مند گوشت مہیا ہوگا۔