صوبے میں ذخیرہ اندوزی روکنے کے لیے آرڈیننس نافذ کر دیا گیا، آرڈیننس کے تحت اشیاے ضروریہ کی ذخیرہ اندوزی کرنے والوں کو بغیر وارنٹ گرفتار کیا جائے گا اور 3 سال قید اور ذخیرہ شدہ مال کے 50 فیصد کے برابر جرمانے کی سزا دی جائے گی اسکے علاوہ ضبط شدہ اشیاء کو نیلام کیا جائے گا، ارڈینس کے مطابق متعلقہ ڈپٹی کمشنر مصدقہ اطلاع پر کسی بھی ایسی جگہ پر جہاں پر ذخیرہ شدہ مال موجود ہوگا بغیر اجازت داخل ہوکر ذخیرہ شدہ مال کو تلاش کر سکے گا، ذخیرہ اندوزی کی اطلاع دینے والے کو ذخیرہ شدہ مال کا 10 فیصد بطور انعام دیا جائےگا، ان خیالات کا اظہار انہوں نے سول سیکرٹریٹ اطلاع سیل میں میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کیا۔کورونا صورتحال کے حوالے سے بات چیت کرتے ہوئے مشیر اطلاعات اجمل وزیر نے کہا کہ افغانستان سے آج طورخم بارڈر کے راستے 520 پاکستانی داخل ہوئے ہیں۔تمام افراد کو ڈگری کالج لنڈی کوتل اور شاہ کس میں قرنطینہ کیا گیا ہے جہاں انکے ٹسٹ اور مکمل دیکھ بھال کیا جائیگا، انہوں نے کہا کہ صوبے میں گذ شتہ 24 گھنٹوں میں 39 نئے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جس سے مجموعی تعداد 1276 ہوگئی، اسکے علاوہ صوبے میں کل 302 کورونا سے متاثرہ مریض صحت یاب ہوچکے ہیں جبکہ گزشتہ 24گھنٹوں میں 35 مریض صحتیاب ہوئے ہیں۔ اسکے علاوہ گزشتہ 24 گھنٹوں میں 7 اموات ریکارڈ کی گئی جس سے کل تعداد 74 تک پہنچ گئی ہے، اجمل وزیر نے ایک دفعہ پھر عوام سے اپیل کی کہ وہ فی الحال گھروں تک محدود رہے کیونکہ یہ وائرس کبھی آپکے پیچھے نہی آئے گا جب تک آپ اسکو لینے نہی جاتے۔
یاد رکھیں کہ یہ بیماری گھر میں اگر ایک بندے کو بھی لگ جائے تو پورا کا پورا خاندان اس سے متاثر ہو سکتا ہے۔ اجمل وزیر نے کہا کہ اللہ تعالی کی مدد اور رحم سے بہت جلد اس وباء پر قابو پا لیں گے۔
انہوں نے کہا کہ کیسز اور حالات ابھی بھی کنٹرول میں ہیں مگر عوام کی لاپرواہی اور غفلت سے حالات خراب ہوسکتے ہیں۔