صوبے میں کورونا کی تازہ ترین صورتحال کا جائزہ لینے اور آئندہ کے لائحہ عمل ترتیب دینے کیلئے اعلیٰ سطح کا اجلاس وزیراعلیٰ محمود خان کی زیر صدارت وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ پشاور میں منعقد ہوا۔ متعلقہ صوبائی وزراءکے علاوہ کور کمانڈر پشاور لیفٹیننٹ جنرل نعمان محمود ، چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا ڈاکٹر کاظم نیاز، آئی جی پی خیبرپختونخوا ثناءاللہ عباسی ، محکمہ ہائے صحت ، ریلیف اور داخلہ کے انتظامی سیکرٹریوں اور دیگر متعلقہ حکام نے اجلاس میں شرکت کی ۔ اجلاس کو بریفینگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ صوبے میں کورونا وائرس کے پھیلاﺅ کو کم سے کم کرنے کیلئے صوبائی کابینہ کے گزشتہ اجلاس میں کئے گئے فیصلوں پر عمل درآمد کو یقینی بنایا گیا ہے ۔ صوبے بھر میں کورونا کے مشتبہ مریضوں کیلئے مجموعی طور پر 215 قرنطینہ مراکز قائم کئے گئے ہیں جن میں سے فی الوقت24 مراکز میں مشتبہ مریضوں کو رکھا گیا ہے۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ درازندہ ڈیرہ اسماعیل خان میں تفتان زائرین کیلئے قائم قرنطینہ مرکز میںرکھے گئے زیادہ تر افراد کے ٹیسٹ نیگٹیو آئے ہیں جنہیں آج سے اپنے اپنے گھروں کو روانہ کیا جارہا ہے ۔ اجلاس میں سرکاری قرنطینہ مراکز میں رہائش پذیر افراد کے اہل خانہ کو بھی مفت راشن کی فراہمی کی منظوری دے دی گئی۔ اجلاس میں فرنٹ لائن پر کام کرنے والے سرکاری ملازمین کو خصوصی الاﺅنس دینے کا معاملہ بھی زیر غور آیا ۔اس سلسلے میں محکمہ خزانہ کو اگلے دو دنوں میں ہوم ورک مکمل کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی اور ہوم ورک مکمل ہونے کے بعد ان ملازمین کیلئے خصوصی الاﺅنس کا اعلان کیا جائے گا۔ اجلاس میں شہروں کے اندر چلنی والی ذاتی گاڑیوں کو ریگولیٹ کرنے کیلئے ایک طریقہ کار وضع کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ۔اس وقت صوبے میں موجود دیگر صوبوں سے تعلق رکھنے والے تبلیغی جماعت کے مبلغین کے محفوظ انداز میںاپنے علاقوںکو بھیجنے کیلئے دیگر صوبوں اور وفاق کے ساتھ مل کر کوئی طریقہ کار وضع کرنے پر زور دیا گیا۔ اجلاس میں افغانستان سے متوقع طور پر آنے والے اور بین الاقوامی پروازیں کھلنے کی صورت میں آنے والے لوگوں کیلئے قرنطینہ اور دیگر ضروری انتظامات کا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا۔