وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے ایک ماہ کے اندرخیبر پختونخوا ٹوارزم اتھارٹی (کے پی ٹی اے) کو مکمل فعال بنانے کی سختی سے ہدایت کی ہے جبکہ اس ماہ کے آخر تک جامع انٹگریٹڈ ٹوارزم پلان کو حتمی شکل دینے ، محکمہ سیاحت میں کنسلٹنٹس کی جگہ ٹوارزم ایکسپرٹ ہائیر کرنے ، ہر تحصیل میں ایک پلے گراﺅنڈ کا قیام، کلچرل ری وائیول پلان پر کام شروع کرنے ، سیاحتی مقامات میں فوڈ سٹریٹس ، کالام ڈویلپمنٹ اتھارٹی پر کام شروع کرنے ، سیاحتی مقامات میں اسی سیزن ہوم سٹے منصوبہ بطور پائلٹ پراجیکٹ شروع کرنے ، تمام ریسٹ ہاﺅسز کی آو¿ٹ سورسنگ ، سیاحتی مقامات پر کیمپنگ پاڈز ،15 ایکسز روڈ کی فیزبیلٹی ، اربا ب نیاز سٹیڈیم کی اگلے پی ایس ایل کیلئے تیاری ، سیاحتی مقامات میں پولی تھین بیگز کا خاتمہ و صفائی اور انڈر21 گیمز کیلئے تمام تر لوازمات سرانجام دینے کی بھی سختی سے ہدایت کی ہے ۔ اُنہوںنے کہاہے کہ سیاحت کے فروغ کیلئے تمام اُمور مقررہ ٹائم لائن میں ہی پایہ تکمیل تک پہنچانا ہے جس پر کسی قسم کا سمجھوتہ برداشت نہیں کیا جائے گا۔ اُنہوںنے مزید ہدایت کی ہے کہ سیاحتی مقامات جیسے کہ جھیل سیف الملوک ، ماہو ڈنڈ، خانپور ڈیم، کمراٹ وغیر ہ میں پولی تھین بیگز کا خاتمہ ، جیپ و دیگر گاڑیوں اور ورکشاپس کیلئے ان سیاحتی مقامات سے موزوں فاصلے پر جگہ کا تعین عمل میں لایا جائے تاکہ سیاحتی مقامات پر ماحول کو سیاحوں کیلئے صاف ستھرا رکھاجاسکے۔ اس موقع پر وزیراعلیٰ نے دریائے سوات کے کنارے تجاوزات کے خلاف آپریشن کرانے کی بھی ہدایت کی ہے اور کہا ہے کہ دریائے سوات میں مائننگ پر مکمل پابندی لگائی جائے ۔ دریائے سوات کی چینلائزیشن کیلئے سروے عمل میں لائی جائے جبکہ دریائے سوات بیلٹ کی حفاظت کیلئے ماسٹر پلان بھی مرتب کیا جائے ۔ وزیراعلیٰ نے غیر قانونی مائننگ پر متعلقہ علاقے کے مائننگ آفیسراور متعلقہ ٹھیکداروں کے خلاف قانونی کاروائی کی ہدایت کی ہے اور کہا ہے کہ دریائے سوات کے غیر قانونی مائننگ کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی ۔ وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم عمران خان کی انتھک محنت سے سیاحت کے شعبے میں پاکستان کو منفرد مقام ملا ہے جبکہ وزیراعظم کی خصوصی توجہ خیبرپختونخوا میں سیاحت کے فروغ پر مرکوز ہے۔صوبائی حکومت سیاحت کے فروغ کیلئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کر رہی ہے ۔ ان خیالات کااُنہوںنے وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ پشاور میں صوبے میں سیاحت کے فروغ کے حوالے سے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیاہے۔