وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا کے عوام کشمیریوں کو حق خود ارادیت دلوانے اور کشمیر کی آزادی کیلئے کسی بھی قسم کی قربانی سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔اُنہوںنے کہا کہ پہلے بھی خیبرپختونخوا کے قبائلی عوام نے کشمیر کے ایک حصے کو آزاد کروایا تھا اور آج بھی اگر ہمیں حکم ملا تو ہم کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے ۔ یوم یکجہتی کشمیر کے حوالے سے پشاور میں منعقدہ ایک پروقار تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ نریندر مودی درندہ صفت انسان ہے اور میں ان پر واضح کرنا چاہتا ہوں کہ ظلم و ستم کی داستان رقم کرکے وہ کشمیر پر کسی بھی صورت حکمرانی نہیں کر سکیں گے ۔ کشمیر پاکستان کا حصہ تھا ، ہے اور ہمیشہ کیلئے رہے گا۔ اس موقع پر کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کیلئے ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی اور ریلی کا انعقاد بھی کیا گیا ۔ تقریب سے خطاب میں وزیراعلیٰ نے کہاکہ بھارت نے کشمیریوں کو گزشتہ سات دہائیوں سے حق خودارادیت سے نہ صرف محروم رکھا ہے بلکہ اس عرصے میں باالعموم اور 5اگست 2019کے بعد باالخصوص ان پر غاصبانہ مظالم ڈھائیں جارہے ہیں۔ معصوم انسانوں کا قتل لاکھو ں کی تعداد میں خواتین کی عزتوں کی پامالی ، بچوں اور بوڑھوں سے نارواسلوک، بھارتی فوج کی حراست میں لاکھوں کے تعداد میں بے گناہ شہریوں کا قتل اور مکانوں،دکانوں ، مساجد اور مزاروں پر حملے بھارت کے متعصبانہ قیادت اور فوج کا خاصا رہا ہے ۔ تشویش کی بات یہ ہے کہ عالمی انسانی حقوق کے اداروں اور اقوام متحدہ کی قرار دادوں کی موجودگی میں کشمیر ی مسلمانوں پر عرصہ دراز سے یہ مظالم ڈھائے جارہے ہیں ۔ اب وقت آچکا ہے کہ عالمی طاقتیں ،نام نہاد اقوام متحدہ اور نسانی حقوق کے عالمبردارتنظیمیں کشمیری مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم اور بھارتی ریاست کے فاشسٹ حکمرانوں کے خلاف سنجیدہ اور نتیجہ خیز اقدامات اٹھائیں۔