خیبرپختونخوا میں بچوں سے زیادتی اور تشدد کی روک تھام سے متعلق قانون سازی کیلئے قائم صوبائی اسمبلی کی ذیلی پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس صوبائی وزیر سماجی بہبود ہشام انعام اللہ کی زیر صدرات منعقد ہوا۔ اجلاس میں ممبر صوبائی اسمبلی عنایت اللہ خان، ثوبیہ شاہد، آسیہ خٹک، سیکرٹری سوشل ویلفئیر محمد ادریس، ایڈوکیٹ جنرل شمائل بٹ، ڈپٹی چیف چائلڈ پروٹیکشن کمیشن اعجاز محمد خان اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔ ذیلی پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس میں پہلے سے موجود قوانین پر نظر ثانی کی گئی اور بچوں سے زیادتی میں ملوث افراد کے خلاف سزاوں کو مزید سخت اور عملدرآمد تیز کرانے کے لئے تین دن تک تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔ اجلاس میں چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفءِر ایکٹ 2010 میں ترامیم کے حوالے سے تجاویز کو ختمی شکل دی گئی۔ کمیٹی نے اپنی تجاویز میں کہا ہے کہ بچوں سے ذیادتی میں ملوث افراد کی سزاوں میں کسی قسم کی معافی نہیں ہوسکے گی اور عمر قید کی سزاء طبعی موت تک کی ہوگی، جبکہ سرعام پھانسی کی بجائے سزائے موت پانے والے مجرموں کی پھانسی کی ویڈیو اور آڈیو بنا کر اس کی تشہیر کی جاسکتی ہے۔ کمیٹی نے اپنی تجاویز میں کہا ہے کہ بچوں کے ساتھ کسی بھی قسم کی ہراسانی یا زیادتی کے مرتکب افراد کو کسی بھی تعلیمی ادارے میں ملازمت نہیں دی جاسکے گی، اور ایسے افراد کے نام جنسی ہراسانی کے لئے مختص رجسٹر میں درج کئے جائینگے جبکہ اسکے ساتھ ساتھ ان کی تفصیلات کمیشن کی ویب پر اپ لوڈ اور نادرا کوبھی فراہم کی جائیں گی۔