وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے سپیکر صوبائی اسمبلی مشتاق احمد غنی سے سپیشل کمیٹی برائے چائلڈ پروٹیکشن کو فوری طور پر فعال بنانے کی درخواست کی ہے جو ایک ماہ میں بچوں سے بد فعلی کرنے والے مجرمان کیلئے سخت ترین سزا کے قانون کیلئے حتمی سفارشات اور قانونی ڈرافٹ پیش کرے گی ۔ اُنہوںنے ہدایت کی کہ مذکورہ کمیٹی صوبے میں بچوں سے زیادتی کرنے والے مجرمان کی واچ لسٹ بنانے پر بھی کام کرے گی جبکہ بچوں سے بد فعلی اور قتل کے کیسز کو مختصر ترین وقت میں نمٹانے کیلئے مذکورہ کمیٹی سفارشات اور قوانین بھی وضع کرے گی۔مذکورہ کمیٹی بچوں سے زیادتی اور قتل کے حوالے سے مجرموں کو سخت ترین سزا فراہم کرنے کیلئے پاکستان پینل کوڈ اور صوبائی قوانین کا جائزہ لے کر سفارشات پیش کرے گی تاکہ مجرموں کو جلد ازجلد کیفرکردار تک پہنچایا جا سکے۔ وزیراعلیٰ نے صوبے میں جامع فرانزک لیبارٹری کے قیام پر جلد کام شروع کرنے کی بھی ہدایت کی ہے ۔ وزیراعلیٰ نے کاکا صاحب نوشہرہ میںبچی کے حالیہ قتل کے حوالے سے صوبائی سطح پر خصوصی پراسکیویشن ٹیم تشکیل دینے کی بھی ہدایت کی ہے جبکہ پراسکیویشن ٹیم پولیس اور بچی کے وکلاءمذکورہ کیس پر مل کر کام کریں گے اور متاثرہ خاندان کو انصاف دلائیں گے ۔ وہ وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ پشاور میں کاکا صاحب نوشہرہ میں آٹھ سالہ بچی کے قتل کے بارے میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کر رہے تھے ۔ اس موقع پر وزیراعلیٰ نے سپیکر صوبائی اسمبلی سے بھی ٹیلی فونک رابطہ کیا اور سپیشل کمیٹی برائے چائلڈ پروٹیکشن کو فوری طور پر فعال بنانے کی بھی درخواست کی ۔وزیراعلیٰ کو کاکا صاحب نوشہرہ میں بچی کے قتل کے حوالے سے پیشرفت پر تفصیلی بریفینگ دی گئی اور بتایا گیا کہ گرفتار کئے گئے دونوں ملزمان کو جیل منتقل کر دیا گیا ہے جبکہ مذکورہ کیس کے حوالے سے سیمپل پنجاب فرانزک لیبارٹری کو بھیجی گئی ہیں۔ پنجاب فرانزک لیبارٹری کے مطابق ایک ہفتے میں رپورٹ فراہم کر دی جائے گی ۔