ضابطہ دیوانی قوانین میں ترمیم کے حوالے سے حکومتی ٹیم اور وکلاءکے نمائندوں کا ایک اجلاس صوبائی وزیر قانون اور پارلیمانی امور سلطان محمد خان کی زیرصدارت منگل کے روز پشاور میں منعقد ہوا۔وکلاءکے نمائندوں کے قیادت معروف قانون دان اور پشاور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کی صدر عبداللطیف آفریدی کر رہے تھے۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ضابطہ دیوانی قوانین میں کیے گئے ترامیم پر تفصیلی بات چیت ہوگی۔صوبائی وزیر نے و کلاءکو یقین دلایا کہ صوبائی حکومت ان ترامیم سے متعلق وکلاءا برادری کے جائز مطالبات اور خدشات پر سنجیدگی سے غور کرے گی۔جس پر و کلاءنے آج بروز بدھ ہونے والی جنرل باڈی میٹنگ کے بعد ہڑتال باضابطہ طور پرختم کرنے کی یقین دہانی کرائی۔اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ بہتر عوامی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے ان ترامیم سے متعلق وکلاءبرادری کے خدشات کو باہمی افہام و تفہیم سے حل کرنے کے لئے حکومت اور وکلاءکی دو کمیٹیاں بنائی جائیں گی۔ اس موقع پر اجلاس کو وزیر قانون نے بتایا کہ قوانین میں اصلاحات میں عام آدمی کو سستا تیز اور فوری انصاف کی فراہمی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور باہمی افہام و تفہیم اور تعاون سے اصلاحات کے متعلق حتمی فیصلہ بہت جلد کیا جائے گا انہوں نے وفد کو بتایا کہ ہڑتال سے عوام متاثر ہورہے ہیں اور یہ کسی مسئلہ کا حل نہیں۔ اجلاس میں پشاور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن، ایبٹ آباد بار ایسوسی ایشن اور پشاور بار ایسوسی ایشن کے نمائندگان کے علاوہ حکومتی اراکین میں سیکرٹری قانون مسعوداحمد اور ایڈوکیٹ جنرل شمائل بٹ کے علاوہ دیگر عہدیداران نے بھی شرکت کی۔