وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے کہا ہے کہ صوبے میں کاروبار کیلئے آسانی پیدا کرکے سرمایہ کاروں کوسازگار ماحول کی فراہمی صوبائی حکومت کی اولین ترجیح ہے، جس کے ذریعے خاطر خواہ ریونیو جنریشن سمیت مجموعی طور پر صوبے کو خود کفیل اور مستحکم بنانے میںمدد ملے گی۔وہ وزیراعلیٰ ہاﺅس پشاور میں ایز آف ڈوئنگ بزنس کے فروغ کیلئے اُٹھائے گئے اقدامات کے حوالے سے اجلاس کی صدارت کر رہے تھے۔ وزیرخزانہ تیمور سلیم جھگڑا، ایڈیشنل چیف سیکرٹری شکیل قادر، سٹرٹیٹجک سپورٹ یونٹ کے سربراہ صاحبزادہ سعید اور دیگر متعلقہ حکام نے اجلاس میں شرکت کی ۔ وزیراعلیٰ کو آگاہ کیا گیا کہ خیبرپختونخوا بورڈ آف انویسٹمنٹ اینڈ ٹریڈمیں ایز آف ڈوئنگ بزنس سیل قائم کیا گیا ہے اور ای-ادائیگی کے آپشن کے ساتھ مکمل آن لائن درخواستوں کا نظام بھی متعارف کرایا گیا ہے ۔ بینک آف خیبر کے ذریعے چھوٹے اوردرمیانے درجے کے کاروبارکیلئے کریڈٹ لائن کا بھی جلد اجراءکردیا جائے گا۔ اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ سرمایہ کاروں کو زیادہ سے زیادہ سہولیات کی فراہمی کے وژن کے تحت ٹیکسوں اور قواعد وضوابط کی ڈوپلیکشن کے خاتمے کیلئے بھی اقدامات کئے گئے ہیں۔ وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ صوبے میں سرمایہ کاری کے حوالے سے متعلقہ ایجنسیوں اور بورڈ آف انویسٹمنٹ اینڈ ٹریڈ میں سٹرکچرل ، فنکشنل ، ایڈوائزی اور دیگر خدمات کو بہتر کرنے کیلئے اداروں کی ری ماڈلنگ کا کام تیز کیا جائے ۔ اُنہوںنے کہاکہ کاروبار کیلئے سازگار ماحول پیدا کرنے کے ذریعے صوبے کو سرمایہ کاری کی ترجیحی منزل کے طور پر متعارف کرانا موجودہ حکومت کا حتمی ہدف ہے۔ اُنہوںنے واضح کیا کہ صوبائی حکومت سرحد پار تجارت میں بہتری کیلئے بھی کوشاں ہے۔ طور خم بارڈر کو پہلے سے ہی ہفتہ بھر 24 گھنٹوں کیلئے کھول دیا گیا ہے ، جس کے درآمدت و برآمدت پر گہرے اثرات مرتب ہوئے ہیں۔پچھلے تین ماہ کے دوران رونما ہونے والی بہتری سے پتہ چلتا ہے کہ طور خم بارڈر پر 24 گھنٹے آپریشن کی وجہ سے برآمدت میں سالانہ 32 ارب روپے اور درآمدی ڈیوٹی میں 4.4 ارب روپے اضافہ متوقع ہے ۔ جبکہ اس کے مقابلے میں سالانہ لاگت صرف 0.1 ارب روپے ہے ۔ واضح رہے کہ صوبائی حکومت نے صوبے میں کاروباری سرگرمیوں کو آسان بنانے کیلئے وزیر خزانہ کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دی تھی جس کے ذریعے نجی و سرکاری سٹیک ہولڈرز کے ساتھ چار مشاورتی اجلاس منعقد کئے گئے ہیںاور متعدد اقدامات اُٹھائے گئے ہیں۔