مشیر سائنس و انفارمیشن ٹیکنالوجی ضیاء اللہ خان بنگش نے کہا ہے کہ صوبے کے تمام محکموں میں ڈیجیٹلایئزڈ اصلاحات متعارف کرکے پیپر لیس ورک شروع کیا جائے گا۔ جس سے عوامی مسائل کی بروقت تکمیلکے ساتھ ساتھ نوجوانوں کو روزگار کے مواقع اور کاروباری شخصیات کو بھی سہولیات میسر ہونگی۔ جبکہ دور جدید کے تقاضوں سے ہم آہنگ سائنس و انفارمیشن ٹیکنالوجی کی تربیت کے ذریعے ڈیجیٹل خیبرپختونخوا کا خواب شرمندہ تعبیر ہوگا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ڈیجیٹل پاکستان کی ٹیم لیڈ تانیہ ادریس کے ہمراہ دورہ ائی ٹی بورڈ کے موقع پر کیا۔
دورے کے دوران مینیجنگ ڈائریکٹر آئی ٹی بورڈ ر ڈاکٹر شہباز خان نے شرکاء کو آئی ٹی بورڈ کے زیر انتظام صوبے میں جاری مختلف اقدامات اور منصوبوں کے حوالے سے بریفنگ بھی دی۔ تانیہ ادریس نے خیبر پختونخواہ انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کے تمام منصوبوں اور اقدامات کو سراہتے ہوئے بیشتر منصوبوں کو ملکی سطح پر شروع کرنے کا عندیہ بھی دیا۔ تانیہ ادریس نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں ڈیجیٹل پاکستان پالیسی کے تحت بنیادی پانچ منصوبوں پر خصوصی توجہ دی جائے گی اور اہداف حاصل کرنے کے لیے وقت مقرر کیا جائے گا۔ مشیر سائنس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی ضیاءاللہ خان بنگش نے کہا کہ وفاق کی طرف سے وضع کر ڈیجیٹل پالیسی فوری طور پر صوبے میں نافذالعمل ہوگی جس کے لیے ابتدائی طور پر تمام محکموں کو ڈیجیٹلائز کیا جائے گا جبکہ پیشاور شہر کو ڈیجیٹل سٹی کا درجہ دینے کے ساتھ ساتھ صوبے کے تمام اضلاع میں درشل پروگرامز اور آئی ٹی کے دیگر اہم منصوبوں کی تکمیل یقینی بنائی جائے گی۔