قائمقام چیئرپرسن سٹینڈنگ کمیٹی برائے ہائرایجوکیشن آسیہ اسد کے زیرصدارت قائمہ کمیٹی کااجلاس منعقد ہوا جس میں مشیرتعلیم ضیاء اللہ خان بنگش، رکن صوبائی اسمبلی محمدعارف، صوبے کے تمام یونیورسٹیز کے وائس چانسلر اورمحکمہ تعلیم کے افسران نے شرکت کی۔ اجلاس کے شرکاء کو بین الاقوامی ماہرین تعلیم ڈاکٹر نعیم سید اور ڈاکٹراسد خان نے ایجوکیشن میتھڈولوجی اور کریکولم ڈویلپمنٹ پر بریفنگ دی۔ جبکہ تمام وائس چانسلرز نے اپنے اپنے یونیورسٹی میں کئے گئے اقدامات، ریسرچ کی سہولیات اور مسائل سے بھی فورم کو آگاہ کیا۔ مشیرتعلیم خیبرپختونخوا ضیاء اللہ خان بنگش نے فورم کو وزیراعظم پاکستان عمران خان کی جانب سے تعلیم کے میدان میں کئے گئے اصلاحات، ایک قوم ایک نصاب کے اجراء کے حوالے سے بھی اگاہ کیا۔ انہوں نے کہاکہ رواں سال اپریل کے مہینے سے پرائمری لیول پرپورے ملک میں یکساں نصاب تعلیم کااجراء کیاجائیگا جبکہ ٹیکنالوجیکل ایڈوانسمنٹ اورروزگار کے مواقع پیدا کرنے کیلئے محکمہ تعلیم خیبرپختونخوا ٹیکنیکل تعلیم کی طرف بھی خصوصی توجہ دے رہی ہے اور عنقریب ایسے پروگرام شروع کررہے ہیں جس سے عام تعلیم کیساتھ ساتھ طلباء کو ٹیکنیکل تعلیم بھی دی جائے۔ مشیرتعلیم نے بین الاقوامی ماہرین تعلیم کی طرف سے طلباء اور فیکلٹی کی بہتری کیلئے پیش کئے گئے تجاویز پر ان کا شکریہ ادا کیا اور کہاکہ ہم کو بھی بین الاقوامی طور پرآزمائے گئے اچھے تجربات سے فوائد حاصل کرناچاہئیے۔ وائس چانسلر یونیورسٹی آف ملاکنڈ پروفیسر گل زمان نے یونیورسٹی آف ملاکنڈ کی صوبے میں پہلی رینکنگ اورپورے پاکستان میں نویں رینکنگ حاصل کرنے کیساتھ اپنے طلباء وطالبات کے مختلف بہترین ریسرچ اورکامیابیوں کے حوالے سے فورم کو بریفنگ دی۔ مشیرتعلیم ضیاء اللہ بنگش نے خیبرپختونخوا کے تمام یونیورسٹیوں کے مالی بحران اوردیگر مسائل کو وزیراعلی خیبرپختونخوا کیساتہ مشاورت کے عمل میں لانے اور یونیورسٹیوں کے متعلق اصلاحات کو سٹینڈنگ کمیٹی برائے ہائرایجوکیشن میں پیش کرنے کے احکامات بھی جاری کئے۔ مشیرتعلیم ضیاء اللہ خان بنگش نے کالجز اوریونیورسٹیوں میں موجود لیبز کو اپ گریڈ کرنے جبکہ ان اداروں کو اپنے طلباء وطالبات کو روزگار اورانٹرنشپ کے مواقع فراہم کرنے کیلئے انڈسٹریز کیساتھ روابط قائم کرنے کے احکامات بھی جاری کئے۔ مشیرتعلیم نے کہاکہ ہماری یونیورسٹیوں میں بہت اصلاحات ہوئی ہیں نتائج میں بہتری آئی ہے جبکہ ہمارے فارغ التحصیل طلباء اورطالبات بین الاقوامی اورملکی سطح پراپنی صلاحیتوں کا لوہامنوارہاہے۔ اجلاس میں یہ بھی فیصلہ ہوا کہ صوبے کے تمام جامعات کے وائس چانسلرز اوربین الاقوامی ماہرین تعلیم کا ایک گروپ بنایاجائیگا جس پرتجاویز کے حوالے سے باہمی تبادلہ کیاجائیگا۔