وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے کہا ہے کہ ضلع کوہاٹ میں تمام ترترقیاتی منصوبوں کی تکمیل سمیت عوام کو درپیش دیگر مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے گا۔ اُنہوںنے کہاکہ ضلع کوہاٹ کے علاقے گمبت کو تحصیل کا درجہ دیا جائے گاجس کیلئے سمری کی پہلے سے منظوری ہوچکی ہے جو پی ڈی ڈبلیو پی کے آئندہ اجلاس میں پیش کی جائے گی۔ اُنہوں نے ضلع کوہاٹ کے مین بازار کی کشادگی جلد عمل میں لانے کی یقین دہانی کراتے ہوئے اس مقصد کیلئے متعلقہ حکام کو ہوم ورک کرکے مجوزہ فنڈز فراہم کرنے جبکہ شکردرہ سے کڑپہ سڑک کے منصوبے پر فوری کام شروع کرنے کی ہدایت کی ہے اور کہا ہے کہ بہت جلد وہ خود تعمیراتی کام کا باضابطہ افتتاح کریں گے ۔ ان خیالات کا اظہار اُنہوں نے وزیراعلیٰ ہاﺅس پشاور میں وزیر مملکت شہر یارآفریدی کی قیادت میں ضلع کوہاٹ سے آئے ہوئے ایک وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ہے ۔ملاقات کے دوران سینیٹر شبلی فراز ، سابقہ وزیر قانون امتیاز شاہد قریشی ، ضلع کوہاٹ سے اراکین صوبائی اسمبلی ، ایس ایم بی آر ، ڈپٹی کمشنر کوہاٹ ، متعلقہ محکموں کے سیکرٹریز و دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود تھے ۔ملاقات کے دوران وفد نے وزیراعلیٰ کو ضلع کوہاٹ میں ترقیاتی منصوبوں پر پیشر فت ، انفراسٹرکچر کی بحالی، گمبت کو تحصیل کا درجہ دینے ، کوہاٹ مین بازار کی کشادگی ، زراعت کی ترقی ، صحت اور تعلیم کے مسائل اورضلع کوہاٹ کے عوام کو درپیش دیگرمسائل کے حوالے سے تفصیلی بریفینگ دی ۔ وزیراعلیٰ کو بتایا گیا کہ کوہاٹ مین بازار میں ٹریفک کے گھمبیر مسئلے کے حل کیلئے سڑک کے دونوں اطراف کشادگی کے باعت دکانوں کی بحالی کیلئے 60 ملین روپے پہلے سے منظور کئے گئے ہیں۔ وزیراعلیٰ کو ضلع کوہاٹ میں یوای ٹی کیمپس ، اسٹیٹ لائف بلڈنگ اور کامسٹ یونیورسٹی کے کیمپس کے قیام کے حوالے سے بھی تفصیلی بریفینگ دی گئی ۔ وزیراعلیٰ نے ڈپٹی کمشنر کوہاٹ کو ہدایت کی کہ ان تین منصوبوں کیلئے مجوزہ سرکاری اراضی کی نشاندہی جلد سے جلد عمل میں لائی جائے تاکہ منصوبوں پر کام شروع ہو سکے ۔ وزیراعلیٰ کو ضلع کوہاٹ میں سمال ڈیمز اور چیک ڈیمز کی افادیت اور اس میں حائل رکاوٹوں کے بارے میں بھی تفصیلاً آگاہ کیا گیاجس پر وزیراعلیٰ نے محکمہ زراعت کو درکارمنصوبوں کی نشاندہی کرکے اگلے اے ڈی پی میں شامل کرنے کی ہدایت کی ہے۔