خیبر پختونخوا کی وزیر برائے مواصلات و تعمیرات اکبر ایوب خان نے کہا ہے کہ تمام غیر حاضر ملازمین کی تنخواہ روک دی جائے اور مسلسل غیر حاضر ملازمین کو نوکری سے نکال دیا جائے اور جو ایکسین اپنے ضلع کے حاضری کو ٹھیک نہیں کر سکتا وہ بھی فارغ ہے۔انہوں نے کہا کہ مجھے پرانا سی اینڈ ڈبلیو نہیں چاہیے ڈیسیپلن کے مطابق نیا سی اینڈ ڈبلیو ڈیپارٹمنٹ بنانا ہوگا جس میں غیر حاضر،کام چور اور کرپٹ لوگوں کیلئے کوئی جگہ نہیں۔جس نے کام کرنا ہے ٹھیک ورنہ اللہ حافظ کسی بھی ملازم کو کوئی رعایت نہیں دی جائے گی چاہے وہ نئے ضم شدہ اضلاع میں ہو یا باقی ماندہ اضلاع میں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے محکمہ مواصلات و تعمیرات کی ماہانہ جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا اجلاس میں سیکرٹری سی اینڈ ڈبلیو محمد شہاب خٹک، چیف انجینئر سینٹر محمد ایوب، چیف انجینئر نارتھ محمد طارق، چیف انجینئر ضم شدہ اضلاع شاہد حسین، تمام سپرٹینڈنٹ انجینئرز اور دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔ صوبائی وزیر مواصلات نے کہا کہ محکمہ مواصلات میں تمام باقی ماندہ ایم اینڈ ای رپورٹس کو ایک ماہ کے اندر اندر حل کر دیا جائے اور جو بھی پرانے اسکیمیں ہے ان کو نئی اسکیموں کے ساتھ ساتھ مکمل کیا جائے۔انہوں نے ہدایت جاری کی کہ تمام اضلاع میں فنڈز استعمال کو بہتر کیا جائے اور تمام قبائلی اضلاع کی ایکسین اپنے اپنے پروگرس رپورٹ جمع کرائے تاکہ ان کو بھی ترقیاتی کاموں میں باقی اضلاع کے برابر لایا جاسکے۔ اکبر ایوب خان نے کہا کہ سڑکوں کے ساتھ ساتھ تعمیراتی کاموں کے طرف بھی مکمل توجہ دی جائے تاکہ ان کی تکمیل بھی اپنے ٹائم میں ہوسکے۔ صوبائی وزیر نے محکمہ مواصلات کے آفسران کو ہدایت جاری کی کہ تمام ترقیاتی کاموں کے حوالے سے ہر ضلع میں ہر ماہ دوسرے محکموں کے ساتھ مل کر اجلاس کرلیا جائے تاکہ اس سے ترقیاتی کاموں میں مثبت پیش رفت ہو سکے اور مسائل پر قابو پایا جا سکے۔ اکبر ایوب خان نے کہا کہ تمام un-approved اسکیموں کو سپیشل پی ڈی ڈبلیو پی میں ڈال دیا جائے تاکہ چیف سیکرٹری کی وسعت سے ان کو approve کیا جائے اور ان پر جلد از جلد کام شروع ہو سکے۔