صوبہ خیبر پختونخوا سے اس وقت 45000 بیرل تیل، 428 ملین ایم ایم سی ایف ڈی گیس اور 130 ٹن ایل پی جی کی پیداوار روزانہ کی بنیاد پر حاصل کی جا رہی ہے اور اس طرح پورے ملک کا 52 فیصد صوبہ خیبر پختونخوا پیدا کر رہی ہے یہ بات محکمہ توانائی و برقیات کی کارکردگی کے حوالے سے چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا کی زیر صدارت جائزہ اجلاس میں بتائی گئی اس موقع پر مشیر توانائی و برقیات حمایت اللہ خان کے علاوہ سیکرٹری توانائی و برقیات محمد زبیر، چیف ایگزیکٹیو آفیسر پیڈو، چیف پلاننگ آفیسر زین اللہ، چیف ایگزیکٹیو آفیسر عثمان غنی خٹک اور دیگر اعلی حکام نے شرکت کی صوبائی چیف سیکرٹری کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ صوبہ خیبر پختونخوا میں 30 ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت موجود ہے اور پختونخوا انرجی ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن (پیڈو) اس سال ساٹھ میگاواٹ بجلی پیدا کریگی اور 2022 تک ایک سو ساٹھ میگاواٹ مزید بجلی صوبے کو مختلف منصوبوں سے میسر ہوگی اجلاس میں بتایا گیا کہ ضلع کرک میں اپنی نوعیت کا پہلا ادارہ پٹرولیم انسٹیٹیوٹ قائم کیا جائے گا جس کی باقاعدہ کلاسز کا آغاز اگلے سال ستمبر میں کیا جائے گا اور اس طرح کوہاٹ ڈویڑن ایریا ڈیویلپمنٹ پروگرام پر کام کا آغاز بہت جلدکیا جائے گا اس موقع پر مشیر توانائی کا کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان کی خواہش پر 282 چھوٹے پن بجلی گھر مکمل ہو چکے ہیں جن میں سے 241 کمیونٹیز کو حوالے کیے گئے ہیں جن سے تقریبا 90 ہزار گھرانے مستفید ہوجائیں گے اور اس طرح دوسرے فیز میں 672 چھوٹے پن بجلی منصوبے بنائے جائیں گے صوبہ خیبر پختونخوا اپنے ٹرانسمیشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی بنانے کے لیے بھی اقدامات اٹھا رہی ہے۔ اس موقع پر چیف سیکرٹری نے محکمہ توانائی و برقیات کے متعلقہ حکام کو تمام منصوبے بروقت مکمل کرنے کی تاکید کی تا کہ ان منصوبوں کے صوبے کو آمدن حاصل ہو سکیں۔