خیبرپختونخوا حکومت اجمل وزیر نے کہا ہے کہ حکومت قبائلی علاقہ جات میں مائنز کو کسی صورت بھی سرکاری تحویل میں نہیں لے رہی، اور نہ حکومت کا ایسا کوئی ارادہ ہے، بل کو یہ رنگ دینا بدنیتی پر مبنی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن جماعتوں کو ترمیمی بل پر سیاست کرنے کے بجائے اسے سراہنا چاہئے۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار پشاور میں منرل سیکٹر گورننس ترمیمی ایکٹ کے حوالے سے منعقدہ پریس کانفرنس کے دوران کیا۔ پریس کانفرنس میں وزیر معدنیات ڈاکٹر امجد علی، وزیر قانون سلطان محمد خان اور قبائلی اضلاع سے تعلق رکھنے والے دیگر ممبر صوبائی اسمبلی نے بھی شرکت کی۔ اس موقع پر اجمل وزیر کا کہنا تھا کہ حکومت اپوزیشن جماعتوں کی جانب کسی بھی معقول تجویز کا خیرمقدم کریگی۔ ان کا کہنا تھا کہ بل کے بعد قبائلی علاقہ جات کی تمام مائنز حسب سابق قبائلی عوام اور اقوام کی ملکیت رہیں گی اور انہیں انضمام سے قبل کے حقوق حاصل ہونگے۔ ان کا کہنا تھاکہ ملکیت کے علاوہ لیز میں بھی مقامی افراد کو ترجیح دی جائیگی، انہوں نے کہا کہ حکومت ٹیکس اور مائنز کے حوالے سے پرانے حقوق اور طریقہ کار کو ہرگز تبدیل نہیں کررہی۔ حکومت ضم شدہ اضلاع کے حوالے سے کوئی ایسا اقدام نہیں اٹھاسکتی، جس سے اس پر کوئی انگلی اٹھا سکے، انہوں نے کہا کہ حکومت کا مقصد 72 سال سے محرومیوں کے شکار قبائلی اضلاع کا ازالہ کرنا ہے۔ قبائلی اضلاع کے خلاف کوئی بھی قانون پاس کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، انہوں نے اپوزیشن جماعتوں کو چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ وہ بل میں ایک بھی چیز دکھائیں جو قبائلی اضلاع کے خلاف ہو۔ بل میں قبائلی عوام کے حقوق کا تحفظ کیا گیا ہے، پریس کانفرنس سے خطاب میں وزیر معدنیات خیبرپختونخوا ڈاکٹر امجد علی کا کہنا تھا کہ منرل سیکٹر گورننس ترمیمی ایکٹ 2019 کے خلاف پروپیگنڈا کرکے اپوزیشن جماعتیں قبائلی عوام کا ذہنی استحصال کررہے ہیں، انہوں نے بل پاس ہونے پر قبائلی اضلاع کے عوام کو مبارک باد دی اور کہا کہ وہ اپوزیشن جماعتوں کو مشورہ دیتے ہیں کہ وہ اعتراض کرنے سے قبل ترمیمی بل کو ایک نظر پڑھ لیں، امید ہے ان کے خدشات خود بخود دور ہوجائینگے۔ پریس کانفرنس سے خطاب میں ڈاکٹر امجد علی کا کہنا تھاکہ ترمیمی بل کی تیاری پر بارہ ماہ تک کام کیا گیااور انہوں نے اس کے لئے سات اضلاع کے دورے کئے، جہاں پر قبائیلی مشران، سیاست دانوں اور دیگر متعلقہ افراد کے ساتھ ملاقاتیں کیں۔ ان کا کہنا تھا کہ قبائلی اضلاع کے خیبرپختونخوا میں انضمام کے بعد وہاں پر شعبہ معدنیات کا کام ٹھپ ہوکر رہ گیا تھا، لائسنز کا اجراء اور تجدید کا عمل بھی کھٹائی میں پڑگیا تھا تاہم بل کی منظوری کے بعد قبائلی اضلاع میں معدنیات کے شعبے میں سرگرمیوں میں اب ایک بار پھر تیزی آئیگی۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے قانون میں قبائلی اضلاع کو ترجیحی حقوق دئے گئے ہیں اور لائسنس کا اجراء مقامی رسم ورواج کے مطابق وہاں کے لوگوں کو دیا جائے گا۔ تاہم اگر مقامی فرد کے ساتھ سرمایہ کی کمی ہو تو وہ جائینٹ وینچر کی سہولت بھی استعمال کرسکتا ہے۔  پریس کانفرنس سے خطاب میں صوبائی وزیر قانون سلطان محمد خان کا کہنا تھا کہ بل کے حوالے سے پروپیگنڈا کرنا سراسر زیادتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ قبائلی اضلاع ایک عرصہ تک پسماندگی کا شکار رہے ہیں، یہی وجہ ہے کہ موجودہ بل میں انہیں خصوصی رعایت دی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بل میں واضح طور پر لکھا ہے کہ قبائلی اضلاع میں لائسنز کا اجراء زمین کی ملکیت رکھنے والے مقامی قبیلہ کے کسی فرد کو کیا جائے گا۔