وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے ضم شدہ قبائلی اضلاع میں سوشل ویلفیئر کمپلیکسز کے قیام کے لئے درکار زمین کی نشاندہی و فراہمی کے عمل میں متعلقہ ضلعی انتظامیہ کو اقدامات اُٹھانے جبکہ قبائلی اضلاع کے خصوصی افراد کو روزگار کے ذرائع کی فراہمی کے لئے خصوصی اقدامات کی ہدایت کی ہے۔ انہوں نے پشاور سمیت تمام ڈویژنل ہیڈکوارٹر ز میں پناہگاہوں کو کل وقتی طور پر فعال رکھنے اور روزانہ کی بنیاد پر نگرانی کی ضرورت پر زور دیا ہے تاکہ ان کی کارکردگی وقت کے ساتھ بہتر ہو سکے۔ وزیراعلیٰ نے صوبے میں بزرگ شہریوں کو خدمات کے حصول میں مراعات دینے کے لئے سینئر سٹیزن کارڈ کے نمونہ سے اتفاق کیا ہے اور مجوزہ مراعات کی فراہمی پر عملدرآمد یقینی بنانے کے لئے متعلقہ قانون کے تحت رولز جلد تشکیل دینے کی ہدایت کی ہے۔ انہوں نے عندیہ دیاکہ صوبے میں گداگروں کی سوشل سیکیورٹی اور پیشہ ور گداگروں کے خلا ف کاروائی کے حوالے سے قانون بھی صوبائی اسمبلی کے آئندہ اجلاس میں منظور کرالیا جائیگا۔وہ وزیراعلیٰ ہاو¿س پشاور میں محکمہ سماجی بہبود کی کارکردگی کے حوالے سے اجلاس کی صدارت کر رہے تھے۔وزیراعلیٰ کے پرنسپل سیکرٹری شہاب علی شاہ، سیکرٹری سوشل ویلفیئر اور دیگر متعلقہ حکام نے اجلاس میں شرکت کی ۔ اجلاس کو خصوصی طور پر محکمہ کے تحت جاری آٹھ اہم ترین منصوبوں پر پیش رفت کے حوالے سے آگاہ کیا گیا۔ اجلا س کو بتایا گیا کہ صوبے کے ڈویژنل ہیڈ کوارٹرز میں پناہگاہوں کے قیام کے منصوبے کے تحت آٹھ پناہ گاہیں قائم کر دی گئی ہے جبکہ وانااور خیبر میں پناہگاہوں کے قیام کے لئے اضافی اخراجات کی درخواست کی گئی ہے ۔ صوبہ بھر میں بزرگ شہریوں کو مراعات دینے کیلئے 785,000 بزرگ شہریوں کا اندراج کیا جا چکا ہے ، لیڈی ریڈنگ ہسپتال پشاور میں بزرگ شہریوں کے لئے خصوصی کاو¿نٹر قائم کر دیا گیا ہے جبکہ دیگر تمام میڈیکل ٹیچنگ انسٹیٹیوٹس میں خصوصی کاو¿نٹرز کے قیام کے احکامات جاری کردیئے گئے ہیں۔ بزرگ شہریوں کو مراعات کے حصول کے لئے کارڈ تیار کیا گیا ہے ۔ اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ گداگروں کو گداگری سے نجات دلا کر سماجی تحفظ دینے اور پیشہ ور گداگروں کیخلاف کاروائی کے حوالے سے قانون صوبائی اسمبلی کو پیش کر دیا گیا ہے، اسمبلی سے منظوری کے بعد اس قانون پرضلعی حکومتوں کے تعاون سے عملدرآمد کیا جائیگا۔صوبائی حکومت کے سٹیٹ چلڈرن کے لئے ماڈل انسٹیٹیوٹ ©”زمونگ کور” کی ڈویژنل ہیڈکوارٹرز تک توسیع کے لئے نان اے ڈی پی سکیم کا پی سی ون تیار ہے ، اس کے ساتھ متعلقہ ڈویژنلز میں یتیموں کی نشاندہی سمیت آلات کی خریداری اور سٹاف کی تعیناتی کا عمل بھی جاری ہے ۔ڈویژن کی سطح پر ایک ہی چھت کے نیچے نشے کے عادی افراد کی ڈی ٹاکسیفیکشن اور بحالی کی سہولت میسر ہو گی ۔ بحالی مراکز میں دیگر صحت مند سرگرمیوں کے ساتھ ٹیلرنگ اور دیگر پیشہ ورانہ تربیت کا بھی اہتمام کیا گیا ہے تاکہ یہ لوگ اپنا روزگار خود کمانے کے قابل ہو سکیں ، یہ ایک کامیاب تجربہ ہے جس کے تحت متعدد افراد مستفید ہو چکے ہیں ۔ صوبے کے پانچ اضلاع میں خواتین کے لئے سکل ڈویلپمنٹ سنٹرز کو فعال بنایا جارہا ہے ، سوات ، کرک اور نوشہرہ میں یہ سنٹرز مکمل طور پر فعال ہیں ۔ ان مراکز میں خواتین کی تیار کر دہ مصنوعات کی نمائشوں کا اہتمام بھی کیا جائے گا۔ بچوں کو تحفظ دینے کے منصوبے کے تحت ہیلپ لائن 1121صوبائی سطح پر فعال ہے جبکہ ضم شدہ علاقوں سمیت ڈویژنل ہیڈ کوارٹرز میں چائلڈ پروٹیکشن یونٹس قائم کئے جارہے ہیں ۔ محکمہ سماجی بہبود کے تحت مذکورہ تمام اقدامات کو ضم شدہ اضلاع تک توسیع دینے پر بھی کام جاری ہے ۔وزیراعلیٰ نے اس مقصد کیلئے نئے اضلاع میں درکار اداروں کے قیام اور سہولیات کی فراہمی کا کام مزید تیز کرنے جبکہ زکوة کے نظام میں مزید اصلاحات لانے کی ہدایت کی ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ مستحق افراد اس سے مستفید ہو سکیں ۔ انہوں نے واضح کیا کہ شدت پسندی سے متاثرہ ضم شدہ اضلاع میں خصوصی افراد پر زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔ اس مقصد کے لئے قابل عمل اور نتیجہ خیز اقدامات کئے جائیں۔ انہوں نے صوبے میں قائم پناہگاہوں اور بحالی کے مراکز میں بلاتعطل خدمات کی فراہمی یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے اور واضح کیا کہ ان اداروں سے متعلق شکایت نہیں آنی چاہیئے۔ اس امر کو یقینی بنانے کے لئے مربوط کاوشوں اور مسلسل نگرانی کی ضرورت ہے ، معاشرے کے ضرورت مند افراد کی معاونت کے حوالے سے وزیراعظم پاکستان عمران خان کے ویژن کو حقیقی معنوں میں عملی جامہ پہنایا جائے۔ صوبائی حکومت اس مقصد کے لئے بھر پور تعاون فراہم کرے گی۔