خیبر پختونخوا کے وزیر زراعت،لائیو سٹاک وفشریز محب اللہ خان نے کہا ہے کہ زمیندار اور کسان پاکستان کا قیمتی آثاثہ ہے،محکمہ زراعت،لائیو سٹاک وفشریز سمیت متعلقہ دیگر محکموں میں عظیم انقلاب لارہے ہیں،سوات ریسرچ سنٹر کو مزید مضبوط اور فعال بنا یا جارہا ہے سوات زرعی یونیورسٹی سے سوات کے طلباء وطالبات کو بہت زیادہ فائدہ ملے گا،پہلی دور میں ہم ایمرجنسی بنیادوں پر ریسرچ سنٹر تختہ بند اور امانکوٹ میں کلاسز شروع کرررہے ہیں ان خیالات کا اظہار انہوں نے مینگورہ سوات میں زمینداروں اور کسانوں کے لئے فاطمہ فرٹیلائیرز کے جانب سے منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا صوبائی وزیر محب اللہ خان نے کہا کہ ملک بھر میں ایگریکلچرل ایمرجنسی ہے اور ہمارا ایک ہی مقصد ہے کہ پاکستان میں زرعی انقلاب ہوں اور کسان اور زمیندار خوش ہوں انہوں نے کہا کہ زمیندار پاکستان کا قیمتی آثاثہ ہے اور یہ عمران خان کے اولین ترجیحات میں شامل ہیں،محب اللہ خان نے کہا کہ سو دن پلان کا مقصد یہ ہے کہ ہم پاکستان میں مختلف محکموں کو صحیح ٹریک پر لانا ہے سو دن پلان کے تحت زراعت سمیت دیگر محکموں اور شعبوں میں عملی انقلابی اقدامات ہورہی ہے انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ مرکز کے جانب سے 309ارب زراعت پر خرچ کیا جارہا ہے انہوں نے کہا کہ نیشنل واٹر پالیسی کے تحت پچھلے دور حکومت میں وزیر اعظم عمران خان نے بلین ٹری سونامی پراجیکٹ شروع کیا تھا جس کے ثمرات اب عوام کو موسمیاتی تبدیلیوں میں مل رہی ہے انہوں نے کسانوں اور زمینداروں پر زور دیا کہ زمیندار اور کسان بہترین حکمت عملی کے ذریعے اپنے ذرعی پیداوار بڑھا سکتے ہیں انہوں نے فشریز اور پولٹری میں کے حوالے سے کہا کہ یہ پراجیکٹ غریب عوام کے لئے ہیں انہوں نے کہا کہ پولٹری میں دیسی مرغیوں کی تقسیم کا منصوبہ صوبہ بھر میں شروع کیا ہے اور بہت جلد صوبے کے دیگر اضلاع میں شروع کی جائیگی۔