خیبر پختونخوا کے وزیر خزانہ تیمور سلیم جھگڑا نے کہا ہے کہ ” عالمی یوم اساتذہ” کے موقع پر ہمیں اس بات کا احساس ہونا چاہیے کہ یہ اساتذہ ہی ہیں جو ہماری آنے والی نسلوں کا مستقبل سنوار تے ہیں۔ایک سکول عمارت کے بغیر چل سکتا ہے لیکن استاد کے وجود کے بغیر تدریسی عمل کاآگے بڑھنا ممکن نہیں۔یہی استاد ہے جس نے اپنی محنت اور لگن سے بڑے بڑے عظیم لوگوں کو پروان چڑھایا ،جن قوموں نے اساتذہ کو ان کا مقام عطا کیا اور کی قدر و منزلت کو جانا آج وہ قومیں دنیا پر راج کررہی ہیں۔عالمی یوم اساتذہ کو منانے کا بنیادی مقصد نئی نسل کو زیور تعلیم سے آراستہ کرنے میں اساتذہ کے کردار کو خراج تحسین پیش کرنا ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے ” عالمی یوم اساتذہ ” کے موقع پر گورنمنٹ ڈگری کالج فار بوائز حیات آباد پشاور میں منعقدہ ایک پروقار تقریب میں بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پرسیکرٹری محکمہ اعلیٰ تعلیم منظور احمد،پرنسپل گورنمنٹ ڈگری کالج فار بوائز حیات آباد پشاور،اساتذہ اور طلباء بھی تقریب میں شریک تھے۔تقریب سے اپنے خطاب میں وزیر خزانہ تیمور سلیم نے کہا کہ موجودہ صوبائی حکومت قبائلی اضلاع سمیت صوبے کے تمام سرکاری سکولوں میں اساتذہ کی کمی کو پورا کرنے اور انہیں دور جدید کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرتے ہوئے جدیدمعیاری نصابی تربیت دینے کے لئے تمام تر وسائل بروئے کار لا رہی ہے۔اساتذہ برادری کی فلاح وبہبود اور ان کی ترقی وخوشحالی کے لئے حکومت ہرممکن اقدامات اٹھا رہی ہے۔سرکاری سکولوں میں کثیر درجاتی تدریس کے خاتمے کے لئے 65 ہزار اساتذہ شفاف طریقہ کار کے تحت میرٹ پر بھرتی کئے جارہے ہیں۔ دور حاضر کے چیلنجز سے نمٹنے اور طلباء کو معیاری تعلیم کی فراہمی کے لئے محکمہ تعلیم جدید اور عملی تربیت فراہم کررہا ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت قبائلی اضلاع کے سرکاری سکولوں میں سہولیات اور اساتذہ کی کمی کو پورا کرنے کے لئے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات کررہی ہے۔اس موقع پر تیمور سلیم جھگڑا نے طلباء اور باالخصوص قبائلی ضلع خیبر سے تعلق رکھنے والے طلباء کووزیر خزانہ سے براہ راست حکومت کی کارکردگی اور ضم اضلاع کی ترقی کے لئے اٹھائے جانے والے اقدامات کے بارے میں سوالات کرنے کی بھی دعوت دی تاکہ حکومت کو نئی نسل کے سامنے جوابدہ کیا جائے اور انہیں آگاہ کرنے کی ایک نئی روایت قائم کی جائے۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ وہ وفاقی حکومت اور صوبائی حکومت کے تمام متعلقہ فورمز پر قبائلی اضلاع کے عوام کے حقوق اور انہیں قومی ترقی کے دھارے میں شامل کرنے کے لئے ہمیشہ آواز بلند کرتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ میری نظر میں پاکستان کی تاریخ اور باالخصوص گزشتہ 25 سالوں میں ملک میں فاٹا کے انضمام سے بڑھ کر کوئی فیصلہ نہیں ہوا۔وزیر خزانہ نے کہا کہ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ فاٹا کے انضمام کو حقیقی معنوں میں پورا اور وہاں ترقی کے سفر کو کامیابی سے ہمکنار کیا جائے۔انہوں نے مزید کہا کہ وزیراعظم عمران خان کے ویژن کے مطابق صوبائی حکومت ضم اضلاع کی ترقی اور معاشی خوشحالی کے لئے ٹھوس اقدامات کررہی ہے۔گزشتہ سال سابقہ فاٹا کا بجٹ 55 ارب روپے تھا جبکہ انضمام کے بعد ضم اضلاع کے لئے سالانہ بجٹ میں کل 165 ارب روپے جبکہ 83 ارب روپے ترقیاتی بجٹ کی مد میں مختص کئے گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ قبائلی اضلاع میں تعلیمی شعبے کے فروٖٖغ کے لئے20 ارب روپے رکھے گئے ہیں ،پہلے مرحلے میں پرائمری سکولوں کی بحالی اوراس کے ڈیزائن میں تبدیلی پر بھی کام زیر غور ہے۔وزیر خزانہ نے کہا کہ خیبر پختونخوا اور قبائلی اضلاع میں پرائمری کی سطح پر سکولوں میں آنے والے بچے بچیوں کی اوسط تعداد تسلی بخش نہیں ہے جس کی ایک بڑی وجہ ان کے والدین کی مالی استطاعت ہے،انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں حکومت پرائمری کی سطح پر قبائلی اضلاع میں سکالرشپ پروگرام کا اجراء کررہی ہے تاکہ سکول نہ جانے والے بچے بچیوں کو وظائف دیئے جائیں اور ان کے والدین کو راغب کیا جائے بچوں کو سکول میں داخل کرنے کے لئے۔انہوں نے دعوی ٰ کیا کہ یہ سکالر شپ پروگرام پاکستان میں سب سے زیادہ لاگت کا سکالرشپ پروگرام ہوگا جس کے لئے اربوں روپے کے فنڈز مختص کئے جائیں گے۔قبائلی اضلاع میں ایجوکیشن سٹی کے قیام کے علاوہ کالجوں اور یونیورسٹیوں کے قیام کے لئے بھی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔تیمور سلیم نے کہا کہ ضم اضلاع سے تعلق رکھنے والے ہونہار اور قابل طلباء کو پورے پاکستان میں کسی بھی کالج اور یونیورسٹی میں فل سکالرلشپ کے تحت جبکہ قبائلی اضلاع سے ملحقہ اضلاع میں قائم کالجوں اور یونیورسٹیوں میں نشستیں بڑھاتے ہوئے وہاں ضم اضلاع کے طلبہ و طالبات کو ترجیحی بنیادوں پر داخلے فراہم کئے جائیں گے ۔انہوں نے کہا کہ ہماری بدقسمتی ہے کہ ہمارے سرکاری ادارے اس رفتار سے کام نہیں کرتے جس کی عوام ان سے توقع رکھتی ہے،گزشتہ72 سالوں میں حکومتی اداروں نے اپنی کارکردگی میں تبدیلی کا مظاہرہ نہیں کیا ،لیکن اب مزید اس طرح کام نہیں چلے گا حکومتی ادارے عوامی توقعات کے عین مطابق اپنی کارکردگی کو بہتر بنائیں گے تاکہ عوام کو ماضی کے مقابلے میں واضح فرق محسوس ہوسکے۔
انہوں نے کہا کہ فاٹا کے انضمام سے نہ صرف وہاں کے عوام کوریکارڈ فائدہ ہوگا بلکہ ان اضلاع کی ترقی کا براہ راست خیبر پختونخوا کے دیگر اضلاع پر بھی مثبت اثر پڑے گا۔انہوں نے طلباء سے کہا کہ آپ ہی ینگ لیڈرز ہیں اور آپ ہی نے وہ آواز بننی ہے جو قبائلی اضلاع اور اس صوبے کے مسائل کے حل لئے اپنا موئثر کردار ادا کرے۔انہوں نے کہا کہ امسال حکومت نے ٖقبائلی اضلاع کے انضمام کے بعد ” One Pakhtunkhwaــ” کے ویژن کے تحت سالانہ بجٹ پیش کیا،اور بجٹ کتابچہ جو کہ محکمہ خزانہ کی ویب سائیٹ پربھی موجود ہے کا نہ صرف انگریزی، اردو،پشتو،ہندکواور چترالی بلکہ سرائیکی زبان میں بھی ترجمہ کیا ہے کیونکہ یہ سب زبانیں ملکر ہی ایک پختونخوا بنتا ہے جس کی تعمیر وترقی کے لئے ہم سب نے اجتماعی ذمہ داری کے ساتھ کام کرنا ہے۔