وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان کی زیر صدارت ایک طویل اور اہم اجلاس میں پشاور سے ڈی آئی خان موٹروے کی الائنمنٹ کی اُصولی منظوری دے دی گئی ۔مجوزہ الائنمنٹ تقریباً 339 کلومیٹر طویل ہے ، جو 15 انٹر چینجز اور 3ٹنلز پر مشتمل ہے ، جس کے ذریعے جنوبی اضلاع اور تحصیلوں کے آبادی والے تمام دیہات اور قصبوں سمیت ترقی سے محروم علاقوں کو رسائی دی جارہی ہے ۔ وزیراعلیٰ نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ جنوبی اضلاع کے عوامی نمائندوں کی مشاورت سے انٹر چینجز کے پلان کو حتمی شکل دی جائے ۔ یہ موٹروے جنوبی اضلاع کیلئے موجودہ حکومت کا ایک بڑا منصوبہ ہے ، جس سے جنوبی خطے کی ترقی کے راستے ہموار ہوں گے اور عوام کو تیز رفتار سفری سہولت میسر آئے گی ۔
پشاور سے ڈی آئی خان موٹروے کی الائنمنٹ کے حوالے سے وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ پشاور میں منعقدہ اجلاس میں وزیر مملکت شہریار خان آفریدی ، صوبائی وزیر برائے مواصلات و تعمیرات اکبر ایوب خان، وزیر صحت ڈاکٹر ہشام انعام اﷲ، وزیراعلیٰ کے مشیر برائے ضم شدہ اضلاع اجمل وزیر، جنوبی اضلاع سے اراکین صوبائی اسمبلی ، وزیراعلیٰ کے پرنسپل سیکرٹری شہاب علی شاہ، سیکرٹری مواصلات و تعمیرات، مینجنگ ڈائریکٹر پختونخوا ہائی ویز اتھارٹی اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی ۔ اجلاس کو پشاور سے ڈی آئی خان موٹروے کیلئے الائنمنٹ کی آپشنز ، ڈیزائین پیرامیٹرز ، مقاصد ، انٹر چینجز ، ٹنلز ، مختلف اضلاع اور تحصیلوں کو دی جانے والی کوریج اور دیگر اہم پہلوﺅں پر تفصیلی بریفنگ دی گئی ۔ اجلاس میں منصوبے کی الائنمنٹ کیلئے تجویز کی گئی پانچ مختلف آپشنز پر تفصیلی غور وخوض کرنے کے بعد آپشن دوم پر اتفاق رائے پایا گیا جس کی معمولی تبدیلی کے ساتھ اُصولی منظوری دی گئی ۔ یہ الائنمنٹ پشاور میں چمکنی کے مقام سے شروع ہو کر درہ آدم خیل ،کوہاٹ، ہنگو ، کرک ، بنوں، لکی مروت، ڈی آئی خان تک جائے گی۔ وزیراعلیٰ نے تقریباً 250ارب روپے کے تخمینہ لاگت سے اس منصوبے کو جلد شروع کرکے تیز رفتاری سے مکمل کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بنوں سرکلر روڈ سمیت دیگر جنوبی اضلاع میں جاری سڑکوں کی تعمیر کے منصوبوں کو بھی مختلف انٹر چینجز کے ذریعے ڈی آئی خان موٹر وے سے منسلک کیا جائیگا، جس سے جنوبی اضلاع کے تمام شہروں اور دیہات سمیت ترقی سے محروم علاقوں کو تیز رفتار سفری سہولت میسر آئیگی اور اس کے ساتھ سیاحت و تجارت کو بھی فروغ ملے گا۔ یہ موٹر وے جنوبی اضلاع کی تقدیر بدلنے کے لئے کسی سنگ میل سے کم نہیں ہو گی ۔