مشیرتعلیم خیبرپختونخوا ضیاء اللہ خان بنگش نے کہاہے کہ پرائیویٹ سکوولں کی آسانی کیلئے ای۔ رجسٹریشن پالیسی لانچ کردی گئی ہے۔ اس پالیسی کے تحت آن لائن سسٹم کے ذریعے سکولوں کی رجسٹریشن ہوگی جس کا بنیادی مقصد سکول مالکان کو آسانیاں فراہم کرنا اور تمام پرائیویٹ سکولوں کو سرکار کی بنائی ہوئی پالیسی کے تحت ریگولیٹ کرناہے۔ انہوں نے کہاکہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے ہدایات کی روشنی میں پرائیویٹ سکولوں کیلئے فیس متعین کرنے اور ہائی کورٹ کی ہدایت کے مطابق ضلعی اورتحصیل لیول پر آفسز کے قیام، ضلعی سطح پر سکروٹنی کمیٹی، فیسوں کی متعین کرنے کیلئے کمیٹی، چھٹیوں کی فیس اقساط میں وصول کرنے کیلئے کمیٹیاں قائم کی گئی ہیں جوکہ ایک مہینے کے اندر اندر رپورٹ فراہم کرے گی جس کی روشنی میں سکولون میں دی جانیوالی سہولیات اورسٹینڈرڈ کے مطابق فیسوں کا تعین کیاجائیگا۔ اس میں تمام میٹرک ہولڈرز سے بھی رائے لی جائیگی۔ وہ پرائیویٹ سکولز ریگولیٹری اتھارٹی کے حوالے سے منعقدہ اجلاس کی صدارت کررہے تھے۔ ایم ڈی پرائیویٹ سکولز ریگولیٹری اتھارٹی تاشفین حیدر نے مشیرتعلیم کو ادارے کی کارکردگی اور حصول کردہ اہداف پر بریفنگ بھی دی۔ مشیرتعلیم ضیاء اللہ خان بنگش نے کہاکہ ٹیوشن سنٹرز اور اکیڈمیوں کی رجسٹریشن کا عمل بھی شروع کیاجارہاہے۔ جوکہ پرائیویٹ سکولزریگولیٹری اتھارٹی کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں۔ پائلٹ کے تحت سوات میں ایک اکیڈمی بھی رجسٹرڈ کی گئی ہے۔ انہوں نے کہاکہ مفت تعلیم دینے والے ادارے، بیت المال، سکولز اور دوسرے مفت تعلیم دینے والے ٹرسٹ اور فلاحی ادارے بھی پرائیویٹ سکولز ریگولیٹری اتھارٹی کیساتھ رجسٹرڈ ہوں گے۔ تاہم وہ رجسٹریشن فیس سے مستثنی ہوں گے اور صرف ایک بار انسپکشن اورسیکیورٹی فیس جمع کرنے کے پابند ہوں گے۔ جبکہ نئے ضم شدہ قبائلی اضلاع کے پرائیویٹ سکولوں کو رجسٹریشن اوراپ گریڈیشن کے مد میں جرمانے سے بچنے کیلئے خصوصی رعایت دی گئی ہے اور وہ 31 دسمبر سال2019ء تک سکولوں کو نارمل فیس کساتہ رجسٹرڈ کرواسکتے ہیں۔ منیجنگ ڈائریکٹر پرائیویٹ سکولز ریگولیٹری اتھارٹی تاشفین حیدر نے مشیرتعلیم کو ادارے کی کارکردگی اورحاصل کردہ اہداف پربریفنگ دیتے ہوئے کہاکہ ہزارہ ڈویژن میں رجسٹریشن ڈرائیو کے تحت 850 سے زیادہ سکولون کو رجسٹرڈ کرایاگیاہے جبکہ ملاکنڈ ڈویژن، قبائلی ضلع خیبر اور مردان میں بھی خصوصی رجسٹریشن ڈرائیوز شروع کئے جاچکے ہیں اور صرف دو مہینوں کے قلیل مدت میں 1950 سے زیادہ پرائیویٹ سکولوں کو رجسٹرڈ کیاجاچکاہے جس سے رجسٹرڈ سکولوں کی تعداد 3600 سے بڑھ کر 5550 تک پہنچ گئی ہے جبکہ ریونیورجسٹریشن 23ملین تک پہنچ گئی ہے۔ ضیاء اللہ خان بنگش نے کہاکہ ہمارا بنیادی مقصد پرائیویٹ سکولوں اور والدین دونون کو آسانیاں فراہم کرناہے اور ہر سکول کا فیس سکول کی درجہ بندی بلحاظ فراہم کردہ سہولیات، ماہانہ فیس کا تعین، فیس میں سالانہ اضافہ، اساتذہ اوراسٹاف کی تنخواہوں کا تعین، حقیقی بہن بھائیوں کی فیس میں رعایت اور سکولوں کی آمدن واخراجات وغیرہ کے ایک موثر واضح حکمت عملی ترتیپ دی جائیگی اور باہمی صلاح مشورے اورکمیٹی کے سفارشات کی روشنی میں مختلف کیٹیگریز کے تحت ایسی فیس سسٹم متعین ہوگی جس سے والدین اور پرائیویٹ سکول مالکان دونوں رضا مندہوں گے۔ مشیرتعلیم نے ضلعی سکروٹنی کمیٹی کی فعالیت کے حوالے سے کہاکہ ڈسٹرکت ایجوکیشن آفیسرز کی سربراہی میں قائم کمیٹیوں میں میڈیکل فیکلٹی سے بھی ممبر کو شامل کیاجارہاہے۔