وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر برائے تعلیم ضیاء اللہ خان بنگش نے کہاہے کہ گزشتہ ایک سال کے دوران، داخلہ مہم کے ذریعے 7لاکھ 25 ہزار طلباء اورطالبات کو داخلہ دیاگیاجبکہ صرف گریڈ5 میں 10ہزار سے زیادہ طالبات کوداخل کروایاگیاہے۔ جو خواتین کی تعلیم کیلئے حکومت کے اقدامات کی واضح طور پرعکاسی کرتا ہے۔ اسی طرح اساتذہ کی کمی کوپورا کرنے کیلئے اسی سال کے دوران 17 ہزار اساتذہ کو بھرتی کرنے کے ساتھ ساتھ 9300اسامیاں بھی مشتہر کی جاچکی ہے جو اپریل سے شروع ہونے والے تعلیمی سیشن کے لئے سسٹم میں شامل کئے جائیں گے اور اسی سال بھرتی شدہ 17 ہزار اساتذہ میں سے پہلے فیز کے دوران 12 ہزار اساتذہ کو ٹیبلٹ بیسڈجدیدتربیت بھی فراہم کی گئی ہے۔ وہ محکمہ تعلیم کی ایک سالہ کارکردگی کے حوالے سے منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے۔ سیکرٹری ایجوکیشن ارشد خان اور محکمہ تعلیم کے دیگرافسران بھی اس موقع پر موجود تھے ۔ ضیاء اللہ بنگش نے کہاکہ محکمہ تعلیم نے اس ایک سال میں معیار تعلیم پر بہت زیادہ توجہ دی جس کے نتائج کے تحت گریڈ۔5 کی اسسٹمنٹ کے مطابق میتھس میں 12 فیصد بہتری آئی جبکہ انگلش ٹوٹل سکور میں 6 فیصد اور سائنس میں 5 فیصد بہتری آئی۔ اس طرح اساتذہ کو جدید تربیت کی فراہمی کے بعد کورس پر عبور میں بھی اضافہ ہوا اور جائزے کے مطابق انگلش میں 10 فیصد،میتھس میں 13 فیصد اور سائنس میں 14 فیصد اضافہ ہوا۔ جوکہ ایک سال کے دوران بہت اہم کامیابی ہے۔ مشیر تعلیم نے ایجوکیشن مانیٹرنگ اتھارٹی کے کردار کی تعریف کرتے ہوئے کہاکہ اساتذہ کی حاضری 91 فیصد تک ہوچکی ہے جس کے تمام تر فوائد طلباء کومل رہے ہیں اور اساتذہ کی دستیابی کی بدولت سکولوں کے نتائج میں بھی کافی بہتری آئی ہے۔ انہوں نے اساتذہ کی تربیت سی پی ڈی پروگرام کے حوالے سے کہاکہ اس پروگرام کے تحت اسی سال 22 ہزار اساتذہ کو تربیت فراہم کی گئی جبکہ تربیت کے اس دائرہ کار کواس کے بعد مزید 16اضلاع تک توسیع دی جائیگی۔ ضیاء اللہ بنگش نے سکولوں میں کوالٹی ایجوکیشن اور اساتذہ کے لسن پلان (Lesson Plan ) میں بہتری اور اساتذہ کے کورس پر عبور میں اضافے کے حوالے سے کہاکہ 7 پرائمری سکولوں کیلئے ایک سکول لیڈر مقررکرنے کی غرض سے ہم نے 3 ہزار آسامیاں تخلیق کی ہیں جوکہ اگلے تعلیمی سال سے کام شروع کریں گے۔ یہ نو تعینات سکول لیڈرز صوبے کے 21ہزارپرائمری سکولوں میں صرف معیار تعلیم کی بہتری کیلئے کام کریں گے۔ جس کی بدولت ارلی ایج سے ہم تعلیمی ڈھانچے کو مضبوط بنائیں گے۔ مشیرتعلیم نے سکولوں کی تعمیر اور اپ گریڈیشن کے حوالے سے کہاکہ اس سال گرلزکمیونٹی سکول اور 45 نئے پرائمری سکول تعمیر کئے گئے جبکہ 22 پرائمری سکولوں کومڈل کی سطح تک اپ گریڈ کیاگیا اسی طرح 26 سکولوں کومڈل سے ہائی اور21 سکولوں کوہائی سے ہائرسیکنڈری سکولوں تک اپ گریڈ کردیاگیاجس کی وجہ سے طلباء کو اپنے علاقوں کے موجودہ سکولوں میں ہائر تعلیمی سہولیات کی دستیابی یقینی بنائی گئیں۔ سکولوں میں سہولیات کی فراہمی کے حوالے سے ضیاء اللہ بنگش نے کہاکہ پی ٹی سی فنڈ کے ذریعے اس سال 400 نئے کلاس رومز بنائے گئے ، عملی اقدامات اور بجٹ میں بہتری کی بدولت سرکاری سکولوں میں بنیادی سہولیات جیسے پانی، بجلی، باؤنڈری وال، اور واش رومز کی فراہمی میں 6 فیصد اضافے کے ساتھ 81 فیصدسکولوں تک یہ سہولیات یقینی بنائی گئیں۔ مشیر تعلیم ضیاء اللہ خان بنگش نے میرٹ اور شفافیت کے حوالے سے کہاکہ آج کے بعد محکمہ تعلیم میں تبادلے ای ٹرانسفر پالیسی کے تحت ہوں گے جس میں ہراستاد اپنے موبائل سے خالی پوسٹ پر تبادلے کیلئے اپلائی کرسکے گا جوکہ پورے تعلیمی سال میں صرف ایک بار ہوگی۔ انہوں نے کہاکہ منیجنمٹ کیڈر بشمول تمام تدریسی اور غیرتدریسی عملے کو سہولیات کی فراہمی اوران کے مسائل کے حل کرنیکی غرض سے ترقیاتی اور اپ گریڈیشن دی گئیں جبکہ منیجمنٹ کیڈرکے گریڈ16 سے گریڈ20 تک کے آفیسرز کوترقیوں کیساتھ ساتھ سروس رولز بھی دیے گئے۔ تعلیم کی بہتری کے حوالے سے مشیرتعلیم نے کہاکہ پرائمری سطح کیلئے 12 ہزارمزیدآسامیاں تخلیق کی جاچکی ہے جبکہ ضم شدہ اضلاع میں 4600 نئی آسامیوں کی تخلیق کاعمل بھی جاری ہے۔ انہوں نے کہاکہ جب مجھے وزارت ملی تھی اس وقت 65 ہزار اساتذہ کی کمی کا سامناتھا جس میں تقریبا29 ہزار اس سال کے اختتام تک سسٹم میں شامل ہو جائیں گے اور 36 ہزار مزید بھی بہت جلد سسٹم میں شامل کرکے ہرپرائمری سکول میں 4 اساتذہ یقینی بنائیں گے۔ قبائلی اضلاع کیلئے اٹھائے گئے اقدامات کے حوالے سے انہوں نے کہاکہ قبائلی اضلاع میں ڈراپ آؤٹ شرح پرقابو پانے کیلئے 7 لاکھ 35ہزار طلباء اور طالبات کو ماہانہ وظیفہ بھی دیاجائیگا جس میں ہائی کلاسز کیلئے ماہانہ ایک ہزار اور پرئمری کلاسز کیلئے ماہانہ 500 روپے وظیفہ مقررہوگا۔ جس کیلئے اسی بجٹ میں 2.5بلین روپے مختص کئے گئے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ بہترین کارکردگی کی بدولت آئی ایم یو کو اتھارٹی کا درجہ دیاگیا اور اپ ایجوکیشن مانیٹرنگ اتھارٹی کی بدولت 5621 قبائلی اضلاع کے سکولوں ک روزانہ بنیادوں پر مانیٹرنگ ہورہی ہے ایک سوال کے جواب میں مشیرتعلیم نے کہاکہ پرائیویٹ سکولوں کی چھٹیوں کی فیسوں کے حوالے سے ہائی کورٹ جو بھی فیصلہ کرے گی اس کے مطابق کارروائی ہوگی۔ بچوں کو سکولوں میں سزا دینے کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ ایسے اساتذہ کے خاف محکمانہ کارروائی ہوگی قانون کے تحت جسمانی سزا کا کوئی تصور موجود نہیں، ایلیمنٹری اینڈسیکنڈری ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں مشیر تعلیم نے کہا کہ وزیراعلی خیبرپختونخوا محمودخان کی ہدایت کے مطابق بورڈ کا اجلاس اگلے ہفتے بلایاجارہاہے اور جن سکولوں کی فائلز ٹھیک ہیں اور ان میں کوئی مسئلہ نہیں ان کوجلد فنڈ ریلیز کردیاجائیگا ۔آئندہ چارسالوں کے پلان کے مطابق ضیاء اللہ خان بنگش کا کہناتھا کہ تعلیم میں انقلابی اصلاحات متعارف کرنے کی غرض سے ہم رینٹڈبلڈنگ سکولز پروگرام ، سیکنڈشفٹ پروگرام اور پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ پروگرام شروع کررہے ہیں جبکہ ارلی ایج ایجوکیشن پروگرام کے تحت دس ہزار ماڈرن کلاس رومز بھی بنائے جارہے ہیں جبکہ مدارس کو بھی یکساں نصاب اور یکساں نظام تعلیم کے تحت صوپائی اور وفاقی سطح پر محکمہ تعلیم کیساتھ رجسٹرڈ کیاجائیگا۔