وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے کہا ہے کہ صوبے میں اعلیٰ تعلیم کے فروغ میں نجی یونیورسٹیوں کا اہم کردار ہے ۔ اُنہوں نے کہا ہے کہ معیاری اعلیٰ تعلیم کی فراہمی کیلئے جامعات کو جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگی پر خصوصی توجہ مرکوز کرنی چاہیئے ۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ صوبائی حکومت نے جدید تعلیم کے فروغ کیلئے شعبہ تعلیم میں اصلاحات نافذ کی ہیں جن کی بدولت شعبہ تعلیم میں کافی بہتری آئی ہے ۔ کسی بھی ملک کی ترقی اور خوشحالی کیلئے تعلیم کا شعبہ نہایت اہمیت کا حامل ہے ۔ اُنہوںنے کہاکہ پاکستان ہم سب کا ملک ہے ۔ اس ملک اور صوبے کی تعمیر و ترقی میں ہم سب نے اپنا اپنا کردار ادا کرنا ہے ۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ ملک کو اندرونی سطح پر درپیش معاشی مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جا رہا ہے اور انشاءاﷲ بہت جلد معاشی اور دوسرے مسائل پر قابو پا لیں گے ۔ ان خیالا ت کا اظہار وزیراعلیٰ نے اقراءنیشنل یونیورسٹی پشاور کے دوسرے کانووکیشن سے بطور مہمان خصوصی اپنے خطاب میںکیا ہے ۔ کا نوکیشن میں وزیر زراعت محب اﷲ خان، چانسلراقراءنیشنل یونیورسٹی ڈاکٹر عبید الرحمن، وائس چانسلر اقراءیونیورسٹی ڈاکٹر فرزند علی جان ، پرو چانسلر فیاض الرحمن ، یونیورسٹی کے تدریسی عملے ، والدین ، طلباءو طالبات نے کثیر تعداد میں شرکت کی ۔ کانوکیشن میں وزیراعلیٰ محمود خان نے ایم ایس سے لیکر پی ایچ ڈی کی سطح تک کے 320 طلباءو طالبات کو ڈگریاں دیں جبکہ 34 طلباءکو سلور میڈلز اور 14 طلباءکو گولڈ میڈلز بھی دیئے ۔ کانووکیشن سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ اقراءیونیورسٹی سے فارغ التحصیل طلباءسے اُمید رکھتا ہوں کہ وہ ملک اور صوبے کی ترقی میں اپنا کردار ادا کریں گے ۔ اُنہوںنے کہا کہ اس وقت ملک کو اندرونی اور بیرونی سطح پر کئی چیلنجز کا سامنا ہے لیکن وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں انشاءاﷲ ہم تمام چیلنجز کا مقابلہ کریں گے ، چاہے اندرونی ہو ںیا بیرونی ، عمران خان قوم کو مایوس نہیں کریں گے ۔ کشمیر کے حوالے سے وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ ہم سب کشمیری بھائیوں کے ساتھ کھڑے ہیں اور کشمیریوں کے حق خود ارادیت کیلئے ہر فورم پر آواز اُٹھائیں گے۔ اُنہوںنے کہاکہ وہ دن دور نہیں کہ کشمیر ی لوگ آزادی کا جشن منائیں گے ۔ تحریک انصاف کی حکومت سے پہلے حکمرانوں نے ملک کو لوٹا اور قومی خزانے کا بیڑا غر ق کردیا ہے لیکن میں آپ لوگوں کو یقین دلاتا ہوں کہ عمران خان کی قیادت میں یہ ملک ضرور ترقی کی راہ پر گا مزن ہو گا۔