صوبائی کابینہ کا اجلاس وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان کی زیر صدارت جمعرات کے روز سول سیکرٹریٹ پشاور میں منعقد ہوا ۔کابینہ ممبران کے علاوہ چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا اور متعلقہ محکموں کے سربراہان نے اجلاس میں شرکت کی۔اجلاس کے بعد صوبائی وزیر اطلاعات شوکت یوسفزئی نے اجلاس میں کئے گئے فیصلوں کے بارے میں میڈیا بریفینگ دیتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم پاکستان کے معاون خصوصی ثانیہ نشتر نے کابینہ کو احساس پروگرام کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ احساس پروگرام پوری دنیا میں اپنی نوعیت کا ایک منفرد پروگرام ہے جس کے تحت ملک بھر میں غربت کے خاتمے اور لوگوں کو معاشی طور پر اپنے پاﺅں پر کھڑا کرنے کیلئے 134مختلف منصوبے شروع کئے گئے ہیں جن میں سوشل سیفٹی نیٹ، ہیومن کیپٹل ڈویلپمنٹ اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے منصوبے شامل ہیں۔مالی سال 2019-20میں اس منصوبے کیلئے 190ارب روپے مختص کئے گئے ہیں جن کے ذریعے خواتین ، مزدوروں، معذروں، بے گھر افراد ، نوجوانوں اور معاشرے کے دیگر کمزور طبقوں کو معاشی طور پر مضبوط کرنے کے لئے بلا سود قرضوں کی فراہمی کے علاوہ دیگر مختلف خدمات فراہم کی جا رہی ہیں۔ احساس پروگرام کے تحت تمام منصوبوں کی تفصیلات اور طریقہ کار کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کیلئے دو موبائل اپلیکیشنزلانچ کئے جا رہے ہیں۔اس پروگرام کے تحت ملک بھر میں نیاسروے کیا جا رہا ہے تاکہ مستحق افراد ان پروگراموں سے مستفید ہو سکیں۔ممبران کابینہ نے خیبر پختونخو امیں احساس پروگرام شروع کرنے اور اسے موثر انداز سے چلانے کیلئے مختلف تجاویز دیں۔ محکمہ خوراک کی طرف سے صوبے میں آٹے کی حالیہ بحران اورقیمتوں میں اضافے کو کنٹرول کرنے کیلئے کئے گئے اقدامات کے بارے میں کابینہ کو بریفنگ دی گئی۔کابینہ کو بتایا گیا کہ پنجاب سے خیبر پختونخوا کو گندم کی ترسیل پر پابندی ختم کر دی گئی ہے،25ہزار ٹن گندم صوبے کو موصول ہوئی ہے جبکہ مزید 3لاکھ ٹن خریدی جا رہی ہے ۔اسی طرح صوبے سے افغانستان کو گندم برآمد کرنے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ان اقدامات کے نتیجے میں آٹے کی قیمتوں میں خاطر خواہ کمی آئی ہوئی ہے۔صوبائی وزیر نے بتایاکہ فوڈ سیفٹی اینڈحلال فوڈ اتھارٹی کو محکمہ صحت کے انتظامی کنٹرول سے نکال کر محکمہ خوراک کے ماتحت کرنے کا معاملہ کابینہ کے سامنے پیش کیا گیا چونکہ ہسپتالوں، طبی تعلیمی اداروں اور صحت سے متعلق دیگر خود مختار اداروں کے انتظامی معاملات محکمہ صحت کے ماتحت ہونے کی وجہ سے محکمے کے پاس کام کا بہت زیادہ بوجھ ہوتا ہے جبکہ فوڈ سیفٹی اور حلال فوڈ اتھارٹی کے کام کا زیادہ تر حصہ محکمہ خوراک سے متعلق ہےکابینہ نے فوڈ اتھارٹی کو فی الوقت کیلئے براہ راست وزیراعلیٰ کے زیر انتظام رکھنے کا فیصلہ کیا۔