خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ محمود خان اور وزیر اطلاعات شوکت علی یوسفزئی نے شانگلہ میں بجلی کی ترسیل میں بہتری لانے اور مسائل پر قابو پانے کے لیے 132 کے وی شنگ گرڈسٹیش کا افتتاح کر دیا شنگ گرڈسٹیش کے فعال ہونے سے بشام، میرہ، دندء، شنگ، تاکوٹ، لاھور سمیت دیگر ملحقہ علاقوں میں بجلی کی ترسیل اور وولٹیج یقینی ہو جائے گی۔شوکت علی یوسفزئی کی خصوصی ہدایت پر شنگ گرڈسٹیش سے چکیسر کو بھی بجلی کی فراہمی کے لیے ہر ممکن اقدامات اٹھائے جانے کی یقین دہانی کرائی گئی۔ افتتاح کے موقع پر صوبائی وزیر نے کہا کہ ماضی میں شانگلہ کے ساتھ یہاں پر باریاں لینے والوں نے زیادتی کی۔
پورے شانگلہ میں ترقیاتی کاموں سے یہاں کی تمام محرومیوں کا خاتمہ کر رہے ہیں مخالفین کو جواب ترقیاتی کاموں سے دے رہے ہیں۔ شنگ میں ہسپتال بنانے کے لیے وزیر اعلیٰ سے خصوصی درخواست کر رہے ہیں۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ ماضی کے حکمرانوں نے شانگلہ کو محرومیوں کے سوا کچھ نہیں دیا، پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے سڑکوں، پانی کے سکیموں، سکول اور کالجوں پر کام شروع کیا ہے۔ بشام بازار میں پینے کے پانی کا مسئلہ ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے گا جس سے سیاحوں کو بھی سہولیات فراہم ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی لوگ عوام کے خادم ہوتے ہیں لوگوں کے کام کرنے سے وہ کوئی احسان نہیں کرتے منصوبوں کا افتتاح کرنا حاضر وقت کے حکومت کا کام ہے شانگلہ کی ترقی اور عوام کی بہتری کے لیے جو بھی کام کرے گا ہم اس کو سپورٹ کرینگے۔ انہوں نے کہا کہ ہر ویلج کونسل میں کھیلوں کے میدان بنائے جا رہے ہیں جس کے لیے تقریباً ساڑھے پانچ ارب روپے مختص کیے گئے ہیں پورے صوبے میں ایک ہزار گراؤنڈ بنیں گے۔ شوکت یوسفزئی نے کہا کہ مسجدوں کو سولر انرجی پر منتقل کرنے کے منصوبے پر کام جلد شروع کیا جا رہا ہے۔ نوکریوں میں وہاں کے مقامی لوگوں کو ترجیح دی جائے گی.