خیبر پختونخوا کے وزیر اطلاعات شوکت یوسفزئی نے کہا ہے کہ مولانا فضل الرحمن کے پاس سوا ئے مایوسی اور انتشار کی کوئی پالیسی نہیں۔ اپوزیشن نے پارلیمانی سیاست کے خلاف محاذ کھول رکھا ہے مولانا 15لاکھ تو کیا 15 ہزا رلوگ بھی اکٹھے نہیں کر سکتے وزیراعلی کے گھر کے گھیراؤسے انتشار پھیلانے کی کوشش کی گئی ہے۔ پنجاب اور خیبرپختونخوا کے بعد پیپلزپارٹی کا سندھ سے بھی صفایا ہو رہا ہے پی پی پی لاڑکانہ سے ہار گئی بلاول اپنے پالیسی اور سیاست پر نظر ثانی کریں۔ انہوں نے کہا کہ لانگ مارچ میں وہی پارٹیاں جے یوآئی کو سپورٹ کر رہی ہے جن کی لیڈرشپ کرپشن کے الزامات میں جیل میں ہیں مولانا فضل الرحمن کو پارلیمنٹ سے باہر ہونے کا دکھ ہے ہے اس کو ابھی سرکاری گھر اور مراعات مل جائے تو سب ٹھیک ہو جائے گا اُنہیں عوام نے مسترد کیا ہوا ہے 15 سال تک کشمیر کمیٹی کے چیئرمین رہنے کے باوجود کبھی بھی کشمیر کیلئے کچھ نہیں کیا۔جمعہ کے روزیہاں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوے کیا۔صوبائی وزیر نے کہا کہ پر امن احتجاج کی مخالفت نہیں لیکن اگر کوئی حکومتی رٹ چیلنج کرنے کی کوشش کرے گا تو حکومت ضرور اپنا کام کریں گی مولانا چاہتے ہیں کہ ملک میں انتشار پیدا ہو ۔ ان کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ پاکستان بنانا ری پبلک نہیں ہے فضل الرحمان کے بعد اسفندیارولی احتجاج کے قیادت کی بات کر رہے ہیں جو چارسد سے اپنا سیٹ نہیں جیت سکے۔ شوکت یوسفزئی نے کہا کہ عمران خان کی کوششوں سے سے ملک کا امیج بہتر ہو رہا ہے ہے برطانوی شاہی جوڑے کے پاکستان کے دور سے مثبت پیغام دنیا کو جارہا ہے پاکستان گرے لسٹ سے نکل رہا ہے جس سے ملک کی معیشت ترقی کر رہی ہے انہوں نے کہا کہ سندھ میں تباہی اورگندگی کے ڈھیروں کے سوا کچھ نہیں ہے وہاں پر اپوزیشن کے ممبران کو ترقیاتی کاموں کے لئے ایک پائی نہیں دی جاتی ۔پی پی پی اپنے گھر لاڑکانہ سے الیکشن ہاری ہے عوام کو عمران خان کی حکومت پراعتماد ھے۔شانگلہ میں احتجاج کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ نواب علی کی شہادت کو سیاسی رنگ دیا جا رہا ہے جو کہ نواب علی کے خاندان والوں کے ساتھ زیادتی ہے۔یہ امیر مقام کا حلقہ ہے جہاں پرمیرے تغزیت پر جانے کے بعد سیاسی مخالفین نے پہلے سے احتجاج کا پروگرام بنایا ہوا تھا شہید نواب علی کے خاندان والوں کو ضرور انصاف دلایاجائے گا۔ ایک سوال کے جواب میں صوبائی وزیر نے کہا کہ ہڑتالی ڈاکٹروں کو شوکاز نوٹسز جاری کردیے گئے ہیں ہیں جس کے جواب کا انتظار ہے ہے ہڑتالی ڈاکٹروں کو انسانیت کی خاطر جیل سے رہا کیا گیا سینئر ڈاکٹروں سے بھی بات چیت ہوئی ہے جس سے مسائل جلد ہی حل ہو جایئنگے حکومت پہلے ہی کہہ چکی ہے کہ ہسپتالوں کی نجکاری نہیں ہو رہی تو پھر ڈاکٹروں کے احتجاج کی کوئی وجہ نہیں بنتی۔