خیبرپختونخوا کے وزیر اطلاعات شوکت یوسفزئی نے سوات میں ایڈز پھیلنے سے متعلق ایک نجی سوشل میڈیا کی خبر کو من گھڑت اور بے بنیاد قرار دیتے ہوئے خبر کو سوات میں بڑھتی ہوئی سیاحت کے خلاف گہری سازش قرار دیا ہے۔ اپنے ایک بیان میں صوبائی وزیر اطلاعات نے کہا کہ سوات میں 2005 سے اب تک 13 سالوں میں 200 مریضوں میں HIV کا انفکشن پایا گیا جن میں زیادہ تعداد باہر سے آئے ہوئے لوگوں اور انجکٹبل نشہ استعمال کرنے والوں کی ہے ان تمام مریضوں کو باقاعدہ رجسٹرڈ کر دیا گیا ہے اور انہیں ادویات فراہم کی جا رہی ہیں جس کی وجہ سے ان کی صحت اب بہتر حالت میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا کی یہ خبر بھونڈی اور غلط ہے جس کا مقصد صرف اور صرف بڑھتی ہوئی سیاحت کو نقصان پہنچانا ہے۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ سوات ایک پرفضا اور حسین وادیوں کا ضلع ہے جسے دیکھنے کے لیے پورے ملک اور غیر ملکی سیاح آتے ہیں سوات میں امن کے قیام کی وجہ سے سیاحت میں بے پناہ اضافہ ہؤا ہے جس کی وجہ سے مقامی لوگوں کو روزگار کے مواقع میسر ہیں تاہم اس قسم کی غلط اور بے بنیاد خبروں کی وجہ سے لوگوں میں خوف و ہراس پھیلتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایڈز کنٹرول پروگرام نے سوات میں کسی قسم کے خطرے کی بات نہیں کی انہوں نے کہا کہ نجی ویب سائٹ ” زما سوات ڈاٹ کام” نے انتہائی غیر زمہ دارانہ بیان دے کر اپنی کریڈیبلیٹی پر سوالیہ نشان چھوڑ دیا۔