خیبر پختونخوا کے وزیر خزانہ تیمور سلیم جھگڑا نے کہا ہے کہ حکومت صوبے میں تاجر برادری،صنعتکاروں اور خدمات فراہم کرنے والے تمام شعبوں پر عائد مختلف ٹیکسز کو یکجا کرنے کے اور ٹیکس نظام کو آسان بنانے کے لئے تمام شراکت داروں کی باہمی مشاورت سے جامع حکمت عملی کے تحت متفقہ ٹیکسیشن پالیسی وضع کررہی ہے تاکہ صوبے میں معاشی سرگرمیوں کو نہ صرف فروغ دیا جاسکے بلکہ چھوٹے اور بڑے پیمانے پر کاروبار سے وابستہ افراد کے مسائل کو بھی حل کیا جاسکے۔صوبے میں معاشی استحکام اور اقتصادی ترقی کے لئے نوجوان سرمایہ کاروں کا کردار نہایت اہمیت کا حامل ہے،حکومت صوبے کے ابھرتے ہوئے نوجوان سرمایہ کاروں کی حوصلہ افزائی کے علاوہ معاشی پالیسی مرتب کرنے میں بھی ان کی تجاویز اور آراء کو شامل کیا جا رہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے ـ”ایڈوائزری کونسل آف ینگ بزنس لیڈرز” کے منعقدہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔اجلاس میں ایڈوکیٹ جنرل شمائل بٹ،سربراہ ای ڈی بی ائی ملیحہ بنگش،کونسل کے ممبران اسد سیف اللہ خان(ڈائریکٹر لیگل سیف گروپ)، زرک خان خٹک (ایف ایف سٹیل)،ایوب زکوڑی(زکوڑی گروپ آف کمپنی)،شفیق الرحمان(رحمان میڈیکل انسٹیٹیوٹ) صہیب تنویر (وائس پریذیڈنٹ سیکاز یونیورسٹی)،اس اقبال (ڈائریکٹر بنک آف خیبر) اور محمد عثمان خان( کنسلٹنٹ انٹرنل سپورٹ یونٹ فنانس ڈیپارٹمنٹ) بھی شریک تھے۔اجلاس کا بنیادی مقصد صوبے میں مختلف شعبوں پر عائد ٹیکس نظام کو آسان بنانے اور معاشی ترقی سمیت صوبے ای ڈی بی ائی میں ینگ بزنس لیڈرزکے کردار کا تعین کرنا تھا۔اس موقع پر کونسل کے ممبران نے صوبے میں صنعتوں،تاجر برادری ،سرمایہ داروں اور خدمات فراہم کرنے والے مختلف شعبوں کو موجودہ ٹیکس نظام میں درپیش مشکلات پر روشنی ڈالی اور اس سلسلے میں ان کے پائیدار حل کے لئے تجاویزپیش کیں۔انہوں نے کاروبار کرنے میں آسانیاں پیدا کرنے اورتمام ٹیکسز کو یکجا کرنے کے حوالے سے سفارشات بھی پیش کیں۔اس موقع پر وزیر خزانہ نے کونسل سے خطاب کرتے ہوئے ممبران پر زور دیا کہ وہ کونسل کے قیام کے مقاصد حاصل کرنے کے لئے تمام امور کا مرحلہ وار جائزہ لیتے ہوئے اپنی ترجیحات مقر رکریں۔وزیر خزانہ نے کہا کہ مقامی اور بیرونی سرمایہ کاروں کی توقعات کو تب تک پورا نہیں کیا جاسکتا جب تک ہم ٹیکس نظام میں تمام دشواریوں کو دور کرتے ہوئے کاروبار کو آسان بنائیں تمام اور تمام شراکت داروں کو آگے بڑھنے کے برابر مواقع فراہم کریں۔