خیبر پختونخوا کے وزیر اطلاعات شوکت یوسفزئی نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت ماں اور بچے میں وقفہ کر نے کے لئے عوام کے اندر ز آگاہی مہم شروع کر رہی ہے انہوں نے کہا کہ علماء کرام اس سلسلے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں وزیر اطلاعات نے کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت ارلی میرج ( کم عمری میں شادی)اور شادی سے پہلے کونسلنگ کو لازمی کرنے کے قوانین لا رہی ہے انہوں نے کہا کہ خاندانی منصوبہ بندی کے لیے تمام مراکز صحت میں مطلوبہ سہولیات فراہم کرنے کا فیصلہ کیاگیاہے۔انہوں نے کہا کہ تمام مسائل کی بنیادی وجہ بڑھتی ہوئی آبادی ہے پاکستان دنیا میں بڑھتی آبادی کے حساب سے پانچویں نمبر پر ہے اور اب وقت آگیا ہے کہ تمام سیاسی پارٹیاں اور این جی اوز مل بیٹھ کر اس کے حل کے لیے فوری اقدامات کریں۔ یہ ایک قومی مسئلہ ہے اور ہم سب کا فرض ہے کیونکہ بڑھتی ہوئی آبادی کی وجہ سے وسائل میں کمی کا سامنا پیش آ رہا ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد کے ایک نجی ہوٹل میں پاپولیشن کونسل کے تعاون سے منعقد کیے گئے خاندانی منصوبہ بندی کے حوالے سے سیمینار میں کیا۔اجلاس کے مہمان خصوصی وزیراعظم پاکستان کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا تھے جبکہ دیگر شرکاء میں وزیر اطلاعات خیبر پختونخوا شوکت یوسفزئی، ڈپٹی سپیکر خیبر پختونخوا اسمبلی محمود جان کے علاوہ مختلف سینیٹرز، ارکان قومی اسمبلی اور خیبر پختونخوا اسمبلی کے علاوہ دیگر سیاسی اور سماجی شخصیات نے شرکت کی۔ اس موقع پر وزیر اطلاعات شوکت یوسفزئی نے یہ بھی کہا کہ پاکستان کے بیشتر دیہی علاقوں میں بڑھتی ہوئی آبادی کے مسائل تیزی سے بڑھ رہے ہیں شہری علاقوں کے ساتھ ساتھ دیہی علاقوں کی عوام کو آگاہی کی سخت ضرورت ہے۔