خیبرپختونخوا کے وزیر برائے مواصلات و تعمیرات اکبر ایوب خان خان نے کہا ہے کہ ای۔بیلنگ اور ای۔بیڈنگ کے بعد ای۔ورک آڈر پر کام شروع کر دیا گیا ہے جو کہ اس سال کے آخر تک مکمل کروا دیا جائے گا جس سے ٹینڈرز کا سارا نظام آن لائن ہو جائے گا اور  اس سے کرپشن اور کمیشن جیسے ناسور کا اس نظام سے مکمل خاتمہ کردیا جائے گا جبکہ اس کے ساتھ ساتھ جن اضلاع میں ای۔بیلنگ کا نظام شروع نہ ہوسکا وہ بھی بحال ہو جائے گا۔انہوں نے کہا کہ ہر ڈویژن کا دفتر صبح دس بجے بائیومیٹرکس حاضری کی پرنٹ نکلوا کر میرے دفتر فیکس کروائے گی اور ہر مہینے کے آخر میں جس ایمپلائی کی جتنی فیصد حاضری ہوگی اس کو اتنی فیصد تنخواہ دی جائے گی۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے محکمہ مواصلات و تعمیرات کے جائزہ اجلاس کی صدارت کرتی ہوئے کی۔اس موقع پر سیکرٹری سی اینڈ ڈبلیو انجینئر محمد شہاب خٹک، چیف انجینئر سنٹرل محمد ایوب خان، چیف انجینئر نارتھ محمد طارق، چیف انجینئر ضم شدہ اضلاع شاہد حسین، تمام سپرنٹنڈنگ انجینئرز، ڈائریکٹر آئی ٹی اور دیگر حکام بھی موجود تھے۔جائزہ اجلاس میں صوبائی وزیر کو محکمہ مواصلات و تعمیرات میں اب تک ہونے والی تمام اسکیموں میں پیشرفت سے آگاہ کیا گیا اکبر ایوب خان نے کہا کہ محکمے میں جاری  ای۔بیلنگ اور ای۔بیڈنگ میں کسی بھی قسم کی کوتاہی نہیں ہونی چاہیے اور تمام سپرنٹنڈنگ انجینئر کو ہدایت کی کہ وہ خود تمام اسکیموں کی نگرانی کرے اور محکمے کے ساتھ ہر وقت رابطے میں رہے تاکہ تمام اسکیموں کو بروقت مکمل کیا جاسکے۔انہوں نے ہدایت  جاری کی کہ تمام افسران نئے ایم آر ایس کو بغور پڑھیں اور اس کے متعلق تمام تر شکایات کا جلد از جلد ازالہ کیا جائے۔صوبائی وزیر مواصلات نے ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ  ٹی۔ایس کے بغیر کوئی بھی ٹینڈر پروسیس نہیں کیا جائے گا اور کوئی بھی ٹینڈر منظور  شدہ ٹی۔ایس کے بغیر نہیں دیا جائے گا انہوں نے کہا کہ کہ تمام سپرنٹنڈنگ انجینئر ز  اپنے اپنے سرکل کے ٹی۔ایس کو مکمل کروائے اور ان کی رپورٹس دس دن تک میرے آفس میں جمع کروا دی جائے۔ اکبر ایوب خان نے نے ہدایت جاری کی کہ تمام سپرنٹنڈنگ انجینئرز اپنے سرکل کے ایم&ای رپورٹس اور روڈز انسپکٹرز کے پوزیشن کے حوالے سے میٹنگ کر آئے اور ان کی رپورٹ بھی تین دن میں جمع کروادی جائے۔صوبائی وزیر  نے کہا کہ محکمہ مواصلات و تعمیرات کو کرپشن سے پاک کرنے اور تمام اسکیموں کو مقررہ وقت میں مکمل کرنے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں اور تمام افسران کو ہدایت کی کہ اپنی اپنی ذمہ داری نہایت فرض شناسی اور خوش اسلوبی سے نبھائے تاکہ محکمہ مواصلات کو دوسرے محکموں کے لئے رول ماڈل بنایا جاسکیں۔